قبائلی اضلاع کےلئے مختص 59 ارب روپے، جاری تاحال ایک دھیلہ نہ ہوسکا

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

مالی بحران کی شکار خیبرپختونخوا حکومت ترقیاتی بجٹ میں قبائلی اضلاع کےلئے مختص 59 ارب روپے فنڈ میں سے تاحال ایک روپیہ تک جاری نہ کرسکی جس کی وجہ سے قبائلی اضلاع میں متعدد منصوبوں پر کام سست روی کا شکار ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انضمام سے قبل قبائلی علاقوں کیلئے فنڈز وفاقی حکومت جاری کرتی تھی اور اب انضمام کے بعد یہ ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے تاہم مالی مشکلات کے باعث صوبائی کابینہ کی جانب سے عید سے قبل منظوری کے باوجود قبائلی اضلاع کیلئے فنڈز جاری نہ ہوسکے۔

ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت کو وفاق کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث مالی مشکلات کا سامنا ہے جس کی وجہ سے صوبے کے دیگر اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبے بھی تعطل کا شکار ہیں جبکہ قبائلی اضلاع کیلئے فنڈز جاری نہ ہونے کی بڑی وجہ بھی صوبائی حکومت کو درپیش مالی مشکلات ہیں۔

خیال رہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور صوبائی وزراء قبائلی علاقوں کے کئی دورے کرچکے ہیں جہاں ہر بار وہ قبائلی اضلاع میں مختلف قسم کے منصوبوں کے اعلانات کرتے رہے تاہم اس کے باوجود قبائلی علاقوں میں ترقی کا وہ نیا دور شروع نہ ہوسکا۔

دوسری جانب قبائلی اضلاع سے صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر کامیاب ممبران سے تاحال حلف بھی نہ لیا جاسکا جس کی وجہ سے ایوان میں ضم اضلاع کی نمائندگی بھی نہیں ہے۔

اس سلسلے میں وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ضم اضلاع اجمل وزیر سے کئی بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم ان سے رابطہ قائم نہ ہوسکا۔