پاراچنار : مسئلہ بالشخیل مزید تعطل کا شکار کیوں ؟

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

قبائلی ضلع میں اراضی کے مسائل نے کبھی فرقہ وارانہ فسادات کی صورت اختیار کی تو کبھی قبائلی اختلافات کو اتنی ہوا دی کہ کئی قیمتی انسانی جانیں ان معاملات میں ضائع ہوگئیں۔  لیکن اب تک حکومت نے اس اہم نوعیت کے حل طلب مسئلہ کی جانب کوئی توجہ نہیں دی۔

رواں سال بھی کئی مرتبہ کرم میں اراضی کے مسائل سامنے آئے اور بعض اوقات تو نوبت مسلح تصادم تک جا پہنچی۔

کرم میں اس وقت کئی مقامات پر اراضی کے مسائل ہیں، تاہم بالش خیل کا مسئلہ اپنی ایک انفرادیت رکھتا ہے۔ اس حوالے سے مقامی طوری قبائل نے ہر دستیاب طریقہ کو استعمال کرتے ہوئے حکومتی ایوانوں تک اپنی آواز کو بلند کیا کہ یہ مسئلہ پرامن طور پر حل کیا جائے، کیونکہ ریاست ہی کے پاس اختیار ہوتا ہے اور اسی کی ذمہ داری ہے کہ فریقین کے مابین مسائل کو باہمی مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کرے۔

بالش خیل میں غاصب قبیلہ نے طوری قبائل کی زمینوں پر قبضہ کر رکھا ہے، طوری قبائل کا موقف اس حوالے سے بے حد منصفانہ اور قانونی ہے کہ کرم بھر میں جہاں جہاں بھی زمینوں کے مسائل ہیں، وہ کاغذات مال کے مطابق حل کئے جائیں اور جو جس کا حق بنتا ہے، وہ اسے دے دیا جائے۔

اہل تشیع علمائے کرام اور مشران نے ہمیشہ اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ کسی حقدار کی زمین پر اپنا حق جتلانا ہم گناہ سمجھتے ہیں، ہم کسی کی ایک انچ زمین پر بھی قبضہ کا نہیں سوچ سکتے اور نہ ہی کسی کو اپنی زمینوں پر قبضہ کرنے کی اجازت دیں گے۔

ہم یہ مسئلہ حکومت کی سرپرستی میں حل کرانے کے خواہاں ہیں اور کسی بھی صورت علاقہ کا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

کچھ عرصہ قبل بالش خیل کے مسئلہ نے جب سر اٹھایا تو حکومت نے مسئلہ حل کرنے کی بجائے الٹا مسئلہ حل کرانے کی کوششیں کرنے والے طوری علماء اور مشران کیخلاف بے جا ایف آئی آرز درج کر دیں۔ حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ مسئلہ جرگہ کے ذریعے حل کیا جائے گا۔

بہرحال حکومت کا یہ وعدہ جرگہ کی حد تک تو درست ثابت ہوا، تاہم بات آگے نہ بڑھ سکی۔ اس حوالے سے جرگہ کی دو بیٹھکیں ہوئیں اور پھر طے پایا کہ جلد اس معاملہ کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

ان جرگوں میں اہل تشیع اور اہل سنت مشران کیساتھ ڈی سی، بریگیڈیئر اور پولیس کے ضلعی سربراہ سمیت دیگر سرکاری افسران شریک رہے۔ اس حوالے سے طوری مشران کا اپنا دیرینہ موقف تھا کہ مسئلہ کو کاغذات مال کے مطابق حل کیا جائے اور یہی راہ حل ہے۔

حکومتی اراکین کی یقین دہانیوں سے محسوس ہو رہا تھا کہ شائد مسئلہ بالش خیل جلد حل ہو جائے اور علاقہ مزید کسی خون خرابے سے بچ جائے۔

تاہم اب محسوس ہوتا ہے کہ شائد حکومت نے یہ سب کچھ معاملہ کو طول دینے کیلئے کیا۔ تاکہ مسئلہ کچھ ٹھنڈا ہو جائے اور اس کے بعد لوگوں کی توجہ اس معاملہ سے ہٹ جائے گی۔

حکومتی پلاننگ شائد کامیاب رہی اور وہ واقعی اس مسئلہ کو تعطل کا شکار کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ مگر یہ ضلعی انتظامیہ کی خام خیالی ہے کہ مقامی قبائل اس مسئلہ پر خاموش ہو جائیں گے۔

یہ معاملہ کسی بھی وقت دوبارہ سر اٹھا سکتا ہے اور خدا نہ کرے کہ کہیں دوبارہ امن و امان کے مسائل پیدا ہوں۔ لہذا حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس مسئلہ کو کسی خونی تصادم کی جانب جانے سے پہلے ہی حل کرے اور حق داروں کو ان کا حق دلائے۔