فوج کے سربراہ کا پشاور سمیت اپر دیر مالاکنڈ ڈویژن کا دورہ

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ہم دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کیفر کردار تک نہ پہنچائیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپر دیر مالاکنڈ ڈویژن کا دورہ کیا، جہاں کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود نے ان کا استقبال کیا۔

آرمی چیف کو استحکام آپریشنز اور بارڈر مینجمنٹ پر بریفنگ دی گئی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے سنگلاخ اور دشوار گزار علاقے میں بارڈر فینسنگ پر فوجی دستوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سرحدوں کی حفاظت اور بارڈر مینجمنٹ سسٹم پاکستان کے امن کے عزم کی حقیقی عکاس ہیں۔

انہوں نے جوانوں کی علاقے میں امن کے قیام کے لیے کی گئی کوششوں پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور شرپسند عناصر کی جانب سے حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں چوکنا رہنے کی ہدایت کی۔

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ پشاور کے مدرسے دھمکے میں زخمیوں کی عیات کر رہے ہیں

آرمی چیف نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں مدرسہ دھماکے میں زخمی ہونے والے بچوں اور دیگر افراد کی عیادت بھی کی اور اُن کی صحت کے بارے میں دریافت کیا۔

اس موقع پر جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ 16 دسمبر 2014ء کو اے پی ایس پشاور میں معصوم بچوں کو ٹارگٹ کیا گیا، 27 اکتوبر کو یوم سیاہ کشمیر کے موقع پر دشمن نے ایک بار پھر اپنی سیاہ تاریخ اور مذموم عزائم کو دوبارہ پروان چڑھانے کے لیے مدرسہ کے معصوم بچوں کو خون میں نہلا دیا، ان بچوں میں افغان مہاجرین کے بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ہم دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کیفر کردار تک نہ پہنچائیں، کل بھی پوری قوم نے دہشت گردوں کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے بے مثال یکجہتی کا مظاہرہ کیا تھا اور ہم آج بھی متحد ہیں اور مل کر اس کا مقابلہ کریں گے۔

آرمی چیف نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان دونوں نے پچھلی دو دہائیوں میں دہشت گردی کا سامنا کیا ہے، پاکستان نے افغان مہاجرین بھائیوں کے لیے اپنے دل اور دروازے کھول دیئے، ہم ہمیشہ افغان بھائیوں کے دُکھ اور سکھ میں شریک ہیں جبکہ افغانستان اور پاکستان کا امن ایک دوسرے سے جُڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، ان کا نظریہ دہشت پھیلانا اور معاشرے میں خوف کی فضا پیدا کرنا ہے، مدرسے پر حملہ دراصل اسلام دشمنی ہے، مدرسہ، منبر، مساجد، امام بارگاہیں، گرجا گھر، مندر، تعلیمی ادارے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ معصوم شہری ان کا نشانہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ افغانستان میں امن کا خواہاں ہے اور اس کے لیے بھرپور تعاون کرتا رہے گا، پاکستان میں موجود افغان مہاجرین بھائیوں کو بھی اس سلسلے میں ایسی دشمن قوتوں سے چوکنا اور دور رہنا ہوگا تاکہ وہ دانستگی اور نادانستگی میں دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال نہ ہو سکیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاک۔افغان بارڈر فینس امن کی باڑ ہے، یہ صرف دہشت گردوں کی بارڈر کے دونوں اطراف غیر قانونی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے بنائی گئی ہے، پاکستان اور افغانستان دونوں موجودہ حالات میں کسی بدامنی اور انتشار کے متحمل نہیں ہو سکتے کیونکہ اس کے نتائج خطرناک ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے دل پہلے بھی ساتھ دھڑکتے تھے اور اب بھی ہم آپس میں جڑے ہوئے ہیں، ہمہ جہتی اور اتحاد ہی وقت کی ضرورت ہے، ہم آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، مستحکم اور خوشحال پاکستان دینے کے لیے کوشاں ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز پشاور میں مدرسہ جامعہ زبیریہ میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں طلبہ سمیت 8 افراد جاں بحق جبکہ 110 زخمی ہوگئے تھے۔

ایس ایس پی آپریشنز منصور امان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ امپرووائزڈ ایکسپلوزو ڈیوائس (آئی ای ڈی) دھماکا تھا جس میں 5 سے 6 کلو دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔

ادھر ایک اور سینئر پولیس عہدیدار نے خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ مدرسے میں دھماکا اس وقت ہوا جب قرآن پاک کی کلاس جاری تھی اور کوئی فرد مدرسے میں بیگ رکھ کر چلا گیا۔