پولیو کا عالمی دن : طورخم زیرو پوائنٹ پر منعقدہ اپنی نوعیت کی پہلی تقریب

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں پولیو کا عالمی دن منایا گیا اور اس دن کی مناسبت سے واک، سیمینارز اور اس طرح کی دیگر تقاریب کا اہتمام کیا گیا جن میں اس مرض سے متعلق آگاہی پر زور دیا گیا۔

تاہم اس سلسلے میں اپنی نوعیت کی پہلی اور غیرمعمولی و خاص تقریب پاک افغان سرحد طورخم زیرو پوائنٹ پر منعقد ہوئی جہاں گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان اور گورنر ننگرہار ( افغانستان) ضیاءالحق امرخیل نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلا اس عالمی دن منانے کا افتتاح کیا۔

دیگر مہمانوں میں خیبر پختونخوا کے وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا. سیکٹر کمانڈر بریگیڈیئر شوکت رانا کمانڈنٹ خیبر رائفلز کرنل رضوان نزیر ڈپٹی کمشنر ضلع خیبر محمود اسلم وزیر اسسٹنٹ کمشنر لنڈی کوتل محمد عمران کے علاوہ یونیسف پولیو حکام اور محکمہ صحت کے ڈاکٹرز سمیت دونوں اطراف سے اعلیٰ حکومتی حکام اور قبائلی عمائدین اور مشران شامل تھے۔

اس موقع پر خیبر پختونخوا کے وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا اور کوآرڈینیٹر ای او سی عبدالباسط نے انسداد پولیو کی حالیہ کاوشوں اور مہمات پر تفصیل سے اظہار خیال کیا۔

عبدالباسط نے اس تقریب کو انسداد پولیو کے لئے ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ کاوشوں سے آنے والے دنوں میں انسداد پولیو مہمات زیادہ مربوط اور موثر ہوں گی۔

گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان نے قبائلی عمائدین سے کہا کہ پولیو کے خاتمہ کی کاوشوں کا کسی بیرونی ملک یا ایجنڈے سے تعلق نہیں بلکہ یہ ہمارے اپنے بچوں کی زندگیوں کا سوال ہے ہم اپنے بچوں کو حالات اور پولیو کے رحم و کرم پر چھوڑ کر انہیں عمر بھر کی معذوری کا دکھ نہیں دے سکتے،

انہوں نے کہا کہ آج پاکستان اور افغانستان کے اعلیٰ حکام کا یہاں جمع ہونا دنیا بھر کے لئے یہ واضح اور دوٹوک پیغام ہے کہ ہم دنیا کے اس آخری خطہ سے بھی پولیو کے مکمل خاتمہ کے لئے پوری طرح متحد اور پرعزم ہے یہ نہ صرف ہمارے اپنے بچوں بلکہ دنیا بھر کے بچوں کی زندگیوں اور صحت کے لئے ضروری ہے۔

تقریب سے اپنے خطاب میں افغانستان کے مشرقی سرحدی صوبہ ننگرہار کے گورنر ضیاءالحق امیرخیل نے کہا کہ بدقسمتی سے اس تلخ حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس وقت جب دنیا بھر کے ممالک اپنے ہاں سے پولیو کا کامیابی سے قلع قمع کر چکے پیں پاکستان اور افغانستان دو ایسے ممالک ہیں جہاں اب بھی یہ وائرس موجود ہے اور اس کے نتیجہ میں عالمی سطح پر ہمارا وقار مجروح ہوتا ہے جس میں بیرونی ممالک کے ائیرپورٹس پر ہمارے باشندوں کو سبکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کے مختلف سفری بندشوں کے بھی خدشات ہوتے ہیں۔

گورنر امیرخیل نے کہا کہ اگر دنیا کے دیگر ممالک اپنے ہاں سے اس بیماری کا کامیابی سے مکمل صفایا کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں کرسکتے، پولیو کا خاتمہ دونوں ممالک کا مشترکہ مشن ہے اور آج کی اس غیرمعمولی تقریب میں ہم یہ عزم کرتے ہیں کہ پولیو کے خاتمہ کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں اور وسائل بروئے کار لائیں گے۔

پاک افغان سرحد طورخم پر زیرو پوائنٹ پر منعقدہ یہ تقریب ہر لحاظ سے اہم اور غیرمعمولی تھی جس میں دونوں ممالک نے ایک نئے سفر کا آغاز کیا جس کی منزل دونوں ممالک سے پولیو کا مکمل خاتمہ اور پولیو وائرس کی ٹرانسمشن کا مکمل صفایا ہے، دونوں ممالک کے ان رہنماؤں نے پولیو کے خاتمہ کے لئے تعاون اور رابطوں میں اضافے کی نئی راہیں ڈھونڈنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

اس وقت جب دنیا بھر کے تمام ممالک اپنے ہاں سے پولیو کا کامیابی سے خاتمہ کر چکے ہیں پاکستان اور افغانستان ایسے دو ممالک ہیں جہاں اب بھی نہ صرف ہر سال درجنوں بچے پولیو وائرس کا شکار ہو کر عمر بھر کی معذوری سے دوچار ہوتے ہیں بلکہ اس خطہ سے پولیو وائرس کی دنیا بھر میں منتقلی کے خدشات اور خطرات کے پیش نظر یہ ممالک سفری پابندیوں کی زد میں بھی آ سکتے ہیں۔

انسداد پولیو کے لئے ایمرجنسی آپریشن سنٹر کے مطابق پولیو سے بچاؤ کی ویکسین ہر لحاظ سے محفوظ اور موثر ہے، اسی ویکسین کے استعمال سے دنیا کے تمام ممالک نے اپنے ہاں سے پولیو کا کامیابی سے خاتمہ کیا جبکہ پاکستان میں سال رواں کے دوران اب تک پولیو کے 79 کیس سامنے آئے ہیں اور سرحد پار افغانستان میں اس سال 53 بچے پولیو کے ہاتھوں عمر بھر کی معذوری سے دوچار ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب ضلع خیبر ہی کی تحصیل باڑہ کے دور دراز پسماندہ علاقہ کمر خیل بازگھڑا میں انسداد پولیو آگہی اور عالمی پولیو ڈے کی مناسبت سے یونین کونسل تودہ چینہ پولیو منتظمین کے زیر انتظام پولیو واک کا اہتمام کیا گیا جس میں گورنمنٹ پرائمری سکول خونہ زیارت کے طلباء اور علاقائی عمائدین سمیت پولیو ورکرز اور پولیو سے وابستہ یونین کونسل کے حکام نے شرکت کی۔

انسداد پولیو کے حوالے ملک سے پولیو کے خاتمے اور پانچ سال عمر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے بارے میں پولیو کے متعلقہ افسران نے لوگوں میں شعور و آگہی پر اظہار خیال کیا اور حکومت کے ساتھ مل کر اس مرض پر قابو پانے کے عزم کا اظہار کیا۔

شمالی وزیرستان میں بھی ورلڈ پولیو ڈے منایا گیا۔ اس حوالے سے منعقدہ تقریب میں ڈپٹی کمشنر شاہد علی خان، ڈی پی سی آر کے ممبران، انتظامیہ اور پولیس کے افسران, علاقائی مشران اور سٹوڈنٹس نے شرکت کی۔

مقررین نے اپنے اپنے خطاب میں تمام مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو پولیو کی خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے پر زور دیا۔ علماء کرام اور علاقائی مشران سے درخواست کی گئی کہ وہ اس ضمن میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ شمالی وزیرستان کو اور پورے ملک کو پولیو فری بنایا جا سکے۔

دوسری جانب پاکستان سمیت خیبر پختونخوا میں بھی میں آج پولیو کا عالمی دن منایا گیا۔ اس حوالے نوشہرہ کے ڈسٹرک کونسل ہال میں تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں نوشہرہ کے ہیلتھ ورکرز، ڈاکٹرز، انتظامیہ اور صحافیوں نے شرکت کی۔

تقریب کے شرکاء کا کہنا تھا کہ ہمیں بحیثیت قوم ملک بھر سے پولیو کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، ہم قریب تو پہنچ چکے ہیں لیکن ابھی بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

ہنگو میں بھی ورلڈ پولیو ڈے کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں تقریب منعقد کی گئی جس میں ڈاکٹرز، پولیس آفیسرز اور علاقائی مشران نے شرکت کی۔ ڈپٹی کمشنر منصور ارشد نے مشران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشران اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اس مقصد کی تکمیل میں اپنا کردار ادا کریں اور معاشرے میں آگاہی پھیلائیں، آج کے اس دور میں صرف پاکستان اور افغانستان دو ممالک ہیں جن میں ابھی تک پولیو جیسے موذی مرض کا خاتمہ نہیں ہو پایا۔

انہوں نے کہا کہ نوجوان اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں اور جن علاقوں میں لوگ پولیو ویکسین سے انکار کرتے ہیں انہیں مطمئن اور رضامند کرنے میں ہمارا ساتھ دیں۔

اس موقع پر ایس پی انویسٹی گیشن اسلم نواز نے خطاب کرتے ہوئے کہا حکومت پولیو کے خاتمے کے لئے بھرپور کوششیں کر رہی ہے تاہم عوام سے التماس ہے کہ اپنا کردار ادا کرتے ہوئے صحت محافظ ٹیموں سے تعاون کریں اور ہر مہم میں اپنے 5 سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں۔ تقریب کے اختتام پر ملک کی سلامتی اور پولیو کے مکمل خاتمے کے لئے دعا کی گئی۔

پولیو کے عالمی دن کی حوالے سے مردان میں بھی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر تا ٹی ایم اے آفس پولیو آگاہی ریلی نکالی گئی جس کی قیادت اڈیشنل ڈپٹی کمشنر نیک محمد اور ڈی ایچ او ڈاکٹر اصغر خان کے علاوہ ڈاکٹر فہد، ڈاکٹر زوار کر رہے تھے۔ ریلی میں پولیو کی فیمیل ورکروں نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔

ریلی کے بعد ٹی ایم اے ہال میں پولیو کے عالمی دن کے حوالے سے تقریب منعقد کی گئی جس سے خطاب کرتے ہوئے ۔مقررین کا کہنا تھا کہ پولیو کے عالمی دن منانے کا مقصد پولیو ورکرز، پولیو کی ویکسین بنانے والے کو اور اس کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے تمام اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے جنہوں نے ہمارے بچوں کا مستقبل بچانے کی خاطر اپنے آپ کو مشکلات میں ڈالا اور بے تحاشہ قربانیاں دیں جو ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ مردان میں پولیو کا کوئی بھی کیس نہیں ہے اور مکمل پاک ہے تاہم جنوبی اضلاع اور افغانستان میں پولیو کے کیسز ہیں۔ تقریب کے آخر میں مہمان خصوصی نیک محمد،ڈی ایچ او ڈاکٹر اصغر خان اور دیگر نے پولیو ورکروں میں حوصلہ افزائی کے لیے دو، دو ہزار روپے کا اعزازیہ بھی تقسیم کیا۔ بعد ازاں انہوں نے پولیو کی آگاہی کے لیے مین کالج چوک اور پار ہوتی چوک میں لگائے گئے کیمپوں دورہ بھی کیا گیا۔

لکی مروت میں بھی ڈپٹی کمشنر آفس میں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی سنٹر لکی مروت کی جانب سے ورلڈ پولیو ڈے کے حوالے سے تقریب کا اہتمام کیا تھا جس کی صدارت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد انور خان شیرانی کر رہے تھے،

تقریب میں اسسٹنٹ کمشنرز عمر بن ریاض، سجاد حسین آفریدی، ڈاکٹرز اور پولیو سے متاثرہ بچوں کے والدین نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ تقریب کا مقصد پولیو کے شکار بچوں سے یکجہتی اور علاقے سے پولیو وائرس کے خاتمے میں کردار ادا کرنا تھا، پولیو لا علاج مرض ہے اور علاج صرف صرف پولیو سے بچاؤ کے دو قطروں میں ہے، آج کا دن پولیو کے خاتمے کے عزم کا دن ہے۔