پاتسی آڈہ کے مقام پر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن آفس کا افتتاح

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

صوبائی وزیر برائے ٹرانسپورٹ ملک شاہ محمد خان وزیر نے شمالی وزیرستان کی تحصیل میرعلی میں پاتسی آڈہ کے مقام پر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن آفس کا افتتاح کیا.

صوبائی وزیر برائے ٹرانسپورٹ ملک شاہ محمد خان وزیر نے تحصیل میرعلی میں ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے دفتر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میرا دوسرا گھر ہے شمالی وزیرستان کے عوام نے بہت تکالیف اور پریشانیوں کا سامنا کیا ہے.

انہوں نے کہا کہ ہم جس جگہ کھڑے ہیں اس کو ہم فاٹا کے نام سے پکارتے تھے تاہم خوش قسمتی سے یہ آج ہمارے خیبر پختونخوا کا حصہ ہے.

اس موقع پر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن شمالی وزیرستان کے صدر ملک نور علی خان، جنرل سیکرٹری ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن حاجی نور خان، ملک رحمت اللہ وزیر و دیگر بھی موجود تھے.

انہوں نے کہاکہ ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن اور ٹرانسپورٹروں کے مسائل حل کریں گے جو مسائل ہم حل کرسکتے ہیں وہ ضرور حل کریں گے، ان کی مشکلات کو دور کرنا ہمارا فرض اور ذمہ داری بنتی ہے۔

ٹرانسپورٹروں کے مسائل کے تدارک کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں یہ ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن ایک رجسٹرڈ تنظیم ہے، انہوں نے کہا کہ ہم دو بھائی تھے لیکن انگریزوں کی وجہ سے ہم دو حصوں میں تقسیم ہوئے تھے ایک کو فاٹا کے نام سے پکاراجاتا تھا جبکہ ایک خیبر پختونخوا کا حصہ تھا.

انہوں نے کہا کہ دو قانون رائج تھے ایف سی آر ایک کالا قانون تھا جرم کوئی اور کرتا تھا اور سزا کسی اور کو دی جاتی تھی ۔

انہوں نے پاک فوج کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ فاٹا انضمام میں پاک فوج کا کردار اہم تھا ایک دو سال کی بات نہیں ترقی کی راہیں کھولنے میں وقت لگتا ہے.

مرکز و صوبائی حکومتوں کی یہی کوشش ہے کہ ضم شدہ اضلاع کے عوام کی فریاد سنی جائے اور ان کی تکالیف کو دور کیا جائے کیونکہ ان لوگوں نے بہت سی تکالیف کا سامنا کیا ہے.

انہوں نے کہا کہ ہم نے غلام خان بارڈر کا بھی دورہ کیا ہے وہاں دو ٹرمینل بنائے جارہے ہیں جس میں لوڈنگ اور اپلوڈنگ ہو گی یہ ایک نئی ترقی کی راہ ہے.

انہوں نے کہاکہ طورخم کی تجارت کسی سے ڈھی چھپی نہیں,بین الاقوامی تجارت طورخم پر کی جاتی ہے افغانستان سے غلام خان بارڈر کا راستہ طورخم سے زیادہ نزدیک پڑتا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ امن و امان کے قیام کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے ٹرانسپورٹروں کی فریاد اعلی حکام تک پہنچائی ہے آئندہ بھی پہنچانے سے گریز نہیں کریں گے اور شمالی وزیرستان کے عوام کو تجارت کیلئے مواقع فراہم کریں گے چلغوزہ کی کٹائی کی وجہ سے مقامی لوگوں کو کھربوں روپے کا منافع ہوا ہے یہ بہت غریب لوگ ہیں.

آخر میں انہوں نے کہا کہ مرکزی و صوبائی حکومتیں مختلف ترقیاتی منصوبے شروع کررہی ہیں جو اعلانات کئے ہیں ان کو عملی شکل دیں گے۔