وزیرستان کے یتیم بچوں کا سہارا

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

تحریر حمزہ محسود

آج دوپہر کو ٹانک سے ڈیرہ اسماعیل خان آرہے تھے کہ ٹانک و ڈیرہ کے درمیانی راستے پر واقع روڈ کے دائیں طرف واوا فلنگ سٹیشن پر جا رکے، اسی فلنگ سٹیشن پر نماز کے بعد کھانے کا آرڈر دیا تو دیکھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک نجی ہوٹل کے cook نے بہترین اور معیاری کھانا کھلایا جو اسی پمپ پر واقع ہوٹل میں ڈیوٹی دے رہے ہیں ، اول تو میں سمجھا کہ شاید صرف ہمارے لئے ہی یہ فریش کھانا تیار کیا ہے ، ویٹر سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ عام روٹین میں ہم یہ dishesتیار کرتے ہیں ، کھانا کھانے کے بعد ایک ڈاٹسن دیکھی اور لگ رہا تھا کہ ضلع ٹانک سے آئے ہوگی ، اسی ڈاٹسن والے نے پٹرول کے کافی ڈرم اور گیلن بھرے.

جب اس سے پوچھا کہ بھائی کہاں سے آئے ہو تو اس نے بتایا کہ میرا نام ایوب ہے اور ٹانک سے دس کلومیٹر دور ایک دیہات سے آیا ہوں ، میں نے پوچھا کہ ٹانک یا راستے میں اور تو درجنوں پمپ دیکھنے کو ملیں گے ، وہاں سے پٹرول کیوں نہیں خریدتے تو اسی ایوب نامی شخص نے بتایا کہ اس پمپ کا کمال یہی ہے کہ یہاں پر پٹرول اس قیمت پر ملتا ہے جس ریٹ پر حکومت نرخ لگاتی ہے جبکہ وہی مقدار اپکو ملتا ہے جس کا آپ پمپ والوں کو کہتے ہو ، ناپ تول میں کمی بیشی نہیں ہوتی اور میں یہی سے پٹرول و ڈیزل خریدتا ہوں وہاں پر موجود پمپ کے منشی سے پوچھا کہ پٹرول پمپ پر تو ناپ تول اور ریٹس میں ایک دو روپے کا فرق ہوتا ہے تو آپ لوگ کیوں ایسا کرتے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ وانا ویلفئیر ایسوسی ایشن ( واوا) کی جانب سے سخت ہدایات دی گئیں ہیں کہ کبھی بھی دھوکہ فراڈ اور غیر معیاری تیل نہ بیچنا کیونکہ انہی پیسوں پر ہم وانا سب ڈویژن کے یتیم بچوں کی کفالت اور انہیں تعلیم دیتے ہیں.

گزشتہ سال وانا ویلفئیر ایسوسی ایشن کے تعاون سے وانا میں قائم امہ چلڈرن اکیڈمی گیا تو وہاں پر دیکھا کہ 700 کے قریب یتیم بچوں کو مفت تعلیم ، پک اینڈ ڈراپ، پین ،پنسل اور یونیفارم دی جارہی ہے اور ان بچوں کا تعلق صرف احمد زئی وزیر قبیلے سے نہیں تھا بلکہ ان میں دوتانی سلیمان خیل اور محسود یتیم بچے بھی تھے جو وانا میں رہائش پزیر تھے بات لمبی کرنے کا مقصد اگر آپ ڈیرہ سے وزیرستان ٹانک جانا چاہیں تو راستے میں واوا پمپ سے ( ہتھالہ سے پہلے بائیں طرف آتا ہے) سے پٹرول وڈیزل ڈلوایا کریں ، معیاری تیل بھی سرکاری قیمت پر ملے گا اور آپ کے ان پٹرول و ڈیزل ڈلوانے کا فایدہ یہ ہوگا کہ علاقے میں موجود یتیم بچے تعلیم سے محروم نہیں رہیں گے اور ساتھ میں اسی پمپ پر قائم ہوٹل سے کم قیمت پر صاف ستھرا اور معیاری کھانا کھائیں تاکہ راستے میں دوران سفر آپ کو یہ فکر لاحق نہ ہوتی ہو کہ اس کھانے سے میرا سفر خراب ہوگا یا میری صحت پر برا اثر پڑے گا مسافر بھائیوں سے گزارش کی جاتی ہے کہ اسی پمپ پر کھانا کھائیں اور ڈیزل و پٹرول ڈلوائیں ، جس کا فائدہ یہ ہوگا کہ یتیم بچوں کا مستقبل سنورے گا جنہیں وانا ویلفئیر ایسوسی ایشن سپورٹ کررہی ہے