افغانستان سے مکمل انخلاء اور پس پردہ حقا یق

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

امریکہ بالاخر افغانستان میں اپنے سب سے بڑے اور اہم دفاعی مرکز بگرام کو خالی کر رہا ہے اور یہ اس بات کا پختہ ثبوت ہے کہ امریکہ افغانستان سے مکمل انخلاء کی تیاری میں ہے اور ٹرمپ کی ہی کوشش ہے کہ اس سال کے آخر تک امریکی فوج افغانستان سے مکمل طور پر نکل جائے.

یہ 20 سال کا سفر کوئی اتنا آسان نہیں تھا اس پہ ہر شخص نے اپنی الگ الگ رائے دی کسی نے کہا ہمیں حصہ نہیں بننا چاہیے تھا، کسی نے کہا ہم نے فوج کرائے پہ دے دی، کسی نے کہا ہم امریکی جنگ میں کُود پڑے غرض ہر طرف سے تلوار مشرف کے سَر لٹکی رہی، میں نے سوشل میڈیا پہ آنے سے پہلے اپنی محفلوں میں بھی یہی بات کہی، 2012 میں بھی یہی بات لکھی تھی اور آج بھی لکھ رہا ہوں کہ یہ جنگ نہ ہی افغانستان کی تھی نہ ہی پاکستان کی، ہم اس جنگ کی وجہ سمجھنے سے کوسوں دور رہے تب ہی ہم طرح سے طرح کے تجزیے سن رہے ہیں لیکن سمجھ نہیں پا رہے کہ آخر اس جنگ میں کود کر حق پہ تھے بھی یا نہیں….

میں جو بات کر رہا ہوں میں ان شاءاللہ دنیا میں بھی اس پہ قائم دائم ہوں اور اگر غلط ثابت ہو تو بروز قیامت بھی میری گردن پکڑ لیجیے گا، کوئی مانے یا نہ مانے مگر یہ جنگ لازم و ملزوم تھی پاکستان، افغانستان بلکہ پوری مسلم امہ میں سے کسی بھی فردِ واحد کا نائن الیون حملوں سے کوسوں دور سے بھی کوئی واسطہ نہیں تھا یہ جنگ اسی خطے کے لیے دہائیوں سے مقرر تھی یہ ہونی تھی بس ایک بہانہ چاہیے تھا، ورلڈ ٹریڈ سنٹر کو خود برباد کرنے مغربی میڈیا کے ذریعے ایسے ایسے قصے گِھڑے گئے کہ دنیا کی نظر میں اسلام کو مشکوک بنا دیا گیا حالانکہ اسلام کا واسطہ ہی نہیں تھا، یہ بات طے تھی یہ بات طے تھی یہ بات طے تھی کہ صیلیبیوں کا کنٹرول پاکستان تک لانا تھا تفصیل سے لکھ چکا پہلے.

اب ساری تلوار مشرف کے سر لٹکائی جا رہی ہے لیکن جو مشرف نے امریکہ کے ساتھ کیا وہ خود امریکہ کو بھی سمجھ نہیں آیا، مگر ایک جنرل کبھی بھی خود اپنی صفائی نہیں دے سکتا، گالیاں سنتا ہے، تندوتیز باتیں برداشت کرتا ہے مگر خاموش رہتا ہے. ایک انڈین ٹی وی اینکر نے جنرل مشرف سے انٹرویو کے دوران جب بہت مجبور کیا کہ آپ نے امریکہ سے دھوکہ کیا ہے تو اس پہ مشرف نہ محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے اینکر کو گنوا دیا کہ امریکہ نے کہاں کہاں پاکستان کو دھوکہ دیا اور یہ بات واضح کر رہی تھی کہ جنرل مشرف اس سفید ہاتھی کے بارے بہت کچھ سوچ سمجھ چکے تھے کہ یہ سفید ہاتھی جب تک ہاتھ میں نہیں آتا اس کا زور نہیں ٹوٹے گا.

میں ہر بات تو آپکے گوش گزار نہیں کرسکتا لیکن چند باتیں ضرور بتانا چاہوں گا کہ صرف موجودہ حالات سے نپٹنے کے لیے دفاعی پالیسی بنانا کبھی بھی کارگر نہیں ہوتا جب تک کہ اس میں مستقبل میں پیدا ہونے والی صورتحال کو مدِنظر نہ رکھ لیں.  ہم نے ایٹم بم پہ کام شروع کیا تو مغرب خاص کر امریکہ نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا کہ پاکستان کامیاب نہ ہو پائے اس دوران روس نے افغانستان پہ حملہ کر دیا اور پاکستان کا ایٹمی پروگرام پُورا ہوا کیونکہ امریکہ پاکستان کا ساتھ دینے پر مجبو تھا.

2001 تک پاکستان اور چین کے پاس وہ دفاعی ٹیکنالوجی نہیں تھی جو امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے پاس تھی اس سفید بدمست ہاتھی کی گردن پہ پیر رکھے بغیر آپ اس سے ایک "پیچ” تک حاصل نہیں کرسکتے تھے جبکہ اس ٹیکنالوجی کا حصول نہ صرف آپکے بلکہ آپ کے دوست چین اور دیگر چھوٹے ایشائی ممالک کے وجود کے دفاع کی ضامن تھی، دشمن کا ہنر سیکھنے، مقاصد جاننے کے لیے دشمن کی صفوں میں گھسنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا اور اس کے لیے کبھی کبھی دشمن سے ہاتھ ملا کر انہیں اپنی حمایت کا یقین دلانا بہت ضروری ہوتا ہے تاکہ آپ پہ بھروسہ کیا جاسکے.

جذبہِ ایمانی بےشک لیکن اللہ پاک نے جذبے کے ساتھ ساتھ ہوش اور دشمن کے خلاف بہترین طریقے سے منصوبہ بندی کا بھی حکم دیا ہے، ایک دشمن آپکے سامنے ٹینک لیکر کھڑا ہے اور آپ جذبہِ ایمانی کے نام پہ ایک چاقو لیکر اس سے مقابلے کے لیے نکل کھڑے ہوتے ہیں تو یہ دانشمندی نہیں، آپکو دشمن کے مقابلے کے لیے دشمن جیسی ہی طاقت چاہیے اور حکم بھی اسی کا ہی ہے، تب تک جنگ میں چال کر دشمن کی چال دشمن پہ ہی پلٹنا مؤثر ہتھیار ہے.

اس چالبازی کے ہتھیار کا ثبوت دیتے ہوئے پاکستان نہ صرف اپنا بلکہ اپنے اردگرد موجود دوستوں کے بھی وجود کی سلامتی کا ضامن ثابت ہوا اور ایک بدمست مغرور سفید ہاتھی ہمارے گھر آ کر ہمیں مارنے آیا، پھر اپنی مدد آپکے اپنی چالوں سے ہم ہی سے پِٹ کر، ہمیں وہ سب دیکر جو ہمیں ضرورت تھی چاہے جیسے بھی ہم نے حاصل کیا کر لیا اس پہ بحث نہیں کرسکتا، جنرل مشرف کی امریکہ کا اتحادی بننے سے پہلے ایک اہم دورہِ چین اسی سلسلے کی ہی کڑی تھی، ایبٹ آباد میں اسامہ پر حملہ بھی اسی کی کڑی تھی ورنہ ایبٹ آباد میں اُسامہ کہاں سے آگیا ہاہاہا، خیر ہم لائیں گے تم بناؤ گے وغیرہ وغیرہ، کیا پاکستان اتنا بیوقوف تھا ایک اہم علاقے میں اسامہ کو رکھتا، کیا چین اتنا بیوقوف تھا کہ امریکہ کو اپنے پڑوس میں جنگ میں مدد کے طور سالانہ اربوں ڈالر کے قرضے دے رہا تھا؟ ہاہاہا…اس جنگ میں امریکہ نے ہزاروں فوجی مروائے، 2 سے 2.5 ٹریلین ڈالر سے ذیادہ کا نقصان اٹھایا جو ابھی آگے مزید بڑھے گا.

پاکستان نے جتنا نقصان دیکھا بالکل بجا ہے کہ بہت بڑا نقصان تھا اور یہ نقصان تب ہوا جب آپ دشمن کی صفوں میں گُھس کر اکثر چالوں سے باخبر تھے، اگر آپ دشمن سے بےخبر ہوتے تو کیا صورتحال ہوتی آپ سوچ ہی نہیں سکتے اس مقابلے میں ہم نے بہت بڑی تباہی سے خود کو بچایا، امریکہ کی ایک فطرتِ ہے کہ ہمیشہ دشمن کے خلاف پراکسی تیار رکھتا ہے اور کسی بھی جگہ خود حملہ آور ہونے سے پہلے اپنی پراکسی کے ذریعے میدان سجاتا ہے یہی ٹی ٹی پی کے ذریعے پاکستان میں بھی کرنا چاہا جبکہ امریکہ کا اتحادی بننے سے ہم امریکہ کی سینکڑوں چالوں سے پہلے ہی واقف ہوچکے تھے، پھر دنیا نے دیکھا، جانا، مانا اور تسلیم کیا کہ میدان امریکہ کا تھا اور کھلاڑی و فاتح پاکستان ٹھہرا، ہم اتحادی تھے مگر اپنے مفاد اپنی سلامتی اور اپنے ملکی و علاقائی مفادات کے…..

آپ اس جنگ کے حوالے سے دنیاوی تجزیے سن سن کر ہمیشہ تذبذب میں رہیں گے یہ دنیاوی نہیں مذاہب کی جنگ تھی، لیکن مذہبی لحاظ سے آپکو نہ میڈیا آگاہ کرے گا نہ لبرلز چاہیں گے کہ مذہب کی بات ہو کہ مذہب پہ بات ہوئی تو یہ اسلام کی فتح ہے. اس لیے مجھے امید ہے کہ جب پاکستان کے سامنے روس اور امریکہ کی چالیں ناکام ہوگئیں تو ان شاءاللہ اندرونی و دیگر بیرونی دشمنوں کو بھی شکستِ فاش ہوگی انکی چالیں بہت بُری طرح ناکام ہوئی ہیں اور ہوتی رہیں گی.