قبائلی خواتین شعراء روایات کے ہاتھوں مجبور ہیں

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

سٹیزن جرنلسٹ بشریٰ محسود

یہ بات زبان زد عام ہے کہ قبائلی علاقات جات میں خواتین کو وہ خودمختاری حاصل نہیں جو مردوں کو حاصل ہے لیکن زیبا آفریدی وہ نام ہے جہنوں نے خطرات مول لیتے ہوئے ادب کی دنیا میں قدم رکھا لیکن یہ کام اتنی آسانی سے نہیں ہوا ہے مصنفہ نے بہت تکلفیں جھیلی ہے۔

نامور پشتو شاعرہ زیبا آفریدی ہےجو انتہائی مشکلات کے باوجود پشتوادب کے اعلی مقام پر فائز ہے گھر والوں کا ساتھ ہو تو انسان ساری دنیا کا مقابلہ کر سکتا ہے لیکن بدقسمتی سے زیبا کے ساتھ تو اپنے ہی گھر والوں تک کا ساتھ نہ تھا اور وہ بھی اس کی مخالفت کرتے تھے۔

زیبا کا کہنا ہے کہ زیبا کی کامیابی کے پیچھے اگر کوئی ہے تو وہ ہے زیبا آفریدی کا جیون ساتھی فصل مومند جو کہ خود بھی شاعر ہیں اس لیے وہ ادب کی قدر و منزلت سے بخوبی مانوس ہیں اور انہوں نے زندگی کے ہر موڑ پر زیبا کو تعاون اور مدد فراہم کی ہے اور ایک مضبوط سہارا دیا ہے۔

گاؤں والوں نے زیبا آفریدی کو بہت طعنے دئیے اس کو بہت برا بھلا کہا اور بھائی نے تو قطع تعلق ہی کر لیا تھا جب اس کو معلوم ہوا کہ زیبا آفریدی شعروشاعری لکھتی ہے پڑھتی ہے اور ادبی محفلوں میں جاتی ہے.

زیبا کی شاعری کو گلوکاروں نے گایا بھی ہے، اور گاؤں کے کسی دکاندار نے ریڈیو پر یہ غزل سنیں اور اس میں زیبا آفریدی کا نام سنا تو پورے گاؤں میں یہ بات جنگل کے آگ کی طرح پھیل گئی اور زیبا آفریدی کو سسرال سمیت اپنے گھر والوں اور تمام گاؤں والوں کیطرف سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا.

نفرت اور تعصب اس حد تک بڑھ گئی کہ چند ہی ماہ قبل زیبا آفریدی پر قاتلانہ حملہ کیا گیا، زیبا آفریدی سخت زخمی ہوگئیں، لیکن اللہ نے اس کی جان بچائی، اس سارے تعصب کی وجہ اس کا شعر و شاعری لکھنا پڑھنا، ادبی محفلوں میں جانا اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا ہے.

زیبا آفریدی روایات کی پاسداری کرتی ہے اور ہر محفل میں نقاب پہن کر فرنٹ پر آتی ہیں ، وہ اپنے روایات کا لاکھ خیال رکھنے کے باوجود بھی معاشرے سمیت اپنوں کے دل نہ جیت سکی صرف اس کے شاعری کا شوق اس کے لیےشدید تنقید مشکلات اور مصائب کا سبب بن رہا ہے۔

قبائلی اضلاع کے عوام دورجدید میں بھی زندگی کے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ ماضی میں اگر ایک طرف ایف سی آر ان کی زندگی کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ تھا تو دوسری طرف کچھ ان کی اپنی روایات راستے میں دیوار بن جاتے تھے۔

قبائلی عوام کی کچھ ایسی غیر صحتمندانہ روایات بھی ہیں جس کیوجہ سے وہ برے طرح متاثر ہوئے ہیں، قبائلی اضلاع میں تعلیم کی شرح بہت کم ہے، لوگ دینی علوم کے حصول کو بڑی عقیدت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ہر گھر وقبیلے کے فرد مرد و زن کو اس کی اجازت بخوشی دیتے ہیں لیکن جہاں دنیاوی تعلیم کی بات آتی ہے تو وہاں ان کا قاعدہ بدل جاتا ہے.

عصری تعلیم کیلئے لڑکوں کو تو پھر بھی اجازت مل جاتی ہیں لیکن لڑکیوں کو بہت مشکل سے یا تو مشروط اجازت مل جاتی ہیں یا سرے سے ان کی بات سنی نہیں جاتی، تو ایسا معاشرہ جہاں عورتوں کی تعلیم کو بھی معیوب سمجھا جاتا ہے وہاں کسی لڑکی کا ادب شعروشاعری کے بارے میں سوچنا کسی کفر وبغاوت کا علم بلند کرنے سے کم نہیں تاریخ کو اگر ہم دیکھیں تو ادب میں ہمیں قبائیلی خواتین شعراء کے نام بالکل نہ ہونے کے برابر ہی نظر آتے ہے.اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ قبائلی خواتین تمام برادری کی مخالفت مول نہیں لے سکتی لیکن وہ کہتے ہیں نہ کے شوق کا کوئی مول نہیں.

زیبا آفریدی کے سنگ ادب کے دنیا سے وابستہ شعر و شاعری کرنے والی زیست کا تعلق نیم قبائلی علاقے لکی مروت سے ہیں،اور ٹانک میں رہائیش ہیں وہ کہتی ہیں کہ میں اپنے معاشرے کے دیگر افراد سے مختلف سوچتی ہوں۔شروع میں مجھے بھی دیگر خواتین شعراء کی طرح بہت مشکلات کا سامنا تھا کیونکہ پختون کلچر میں شاعری معیوب سمجھی جاتی ہیں لیکن میرے لئے مثبت بات یہ ہے کہ میرا تعلیم یافتہ خاندان تھا۔

زیست خان کہتی ہیں کہ بچپن سے مجھے لکھنے کا شوق تھا اور مجھے بہت پہلے محسوس ہوا تھا کہ میں لکھ سکتی ہوں۔ کتاب کی طرف میرا رحجان زیادہ تھا جب میں نے نویں اور دسویں جماعت میں اردو ادب پڑھا، تو اس وقت میں چھوٹے چھوٹے مضامین لکھا کرتی تھی، لیکن میرے خیال میں بھی نہ تھا کہ ایک دن میں باقاعدہ شاعری بھی کر سکوں گی۔

انہون نے کہا کہ میٹرک میں جب میں نے اردوں نظم لکھنا شروع کر دیا تو کچھ عرصے تک میں چھپ کر لکھتی تھی کیونکہ مجھے یہ خوف تھا کہ لوگ پڑھیں گے تو وہ کیا سمجھیں گے۔

ہمارا خطہ دہشت گردی اور طالبانزیشن سے بہت متاثر ہیں، مجھے دھمکیاں ملتی تھی خطوط پھینکیں جاتے تھے کہ عورت گھر سے باہر نہ نکلیں، سکول نہ جائیں پھر اسی دور میں شعر و شاعری کرنا میرے لئے زندگی کا سب سے بڑا چیلنج تھا۔

زیست خان کہتی ہیں کہ مجھے اپنے لوگوں کی نسبت باہر ملکوں سے زیادہ سپورٹ ملتی ہیں، وہاں کہ لوگ میری حوصلہ افزائی کرتے ہیں کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ محدود اور سخت ماحول میں ایک خاتون ادیب کیلئے کام کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرا بڑا بھائی خود لکھاری ہیں اور وہ انگلش اخبار کے ساتھ کام کرتے ہیں وہ مجھے نہ صرف بھرپور سپورٹ کرتے ہیں بلکہ یہ نصیحت بھی کرتے ہیں کہ آپ کو بہت زیادہ احتیاط کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہیں۔

ہمارے روایات میں شاعری ایک جرم تصور کیا جاتا ہے لیکن میں نے انتہائی سخت رویے برداشت کی اور میں لکھتی گئی، اس دوران پر مجھ پر جو حالات گزرے ہیں وہ ناقابل بیان ہیں۔

زیست خان نے کہا کہ اگر اللہ نے آپ کو کسی صلاحیت سے نوازا ہے تو کوئی وہ اپ سے چھین نہیں سکتا، میرا ایک کتاب چھپ چکا ہے لیکن میں نے آج تک اس کی تقریب رونمائی نہیں کی، کلچر روایات اور محدود سوچ کیوجہ سے یہاں خواتین متاثر ہو رہی ہیں اور ان کو بہت سارے مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ میں نے فرضی نام ڈر کیوجہ سے نہیں رکھا ہے یہ میرا دوسرا نام ہی سمجھے۔

ماضی میں انگلش سوسائٹی میں بھی یہ مسائل رہے ہیں ،انگریزوں میں بہت ایسے خواتین تھی جو مردوں کے نام سے لکھتی تھی، یہ وقت ہر سوسائٹی کو دیکھنی پڑی ہیں۔ جہاں عورت نے قلم اٹھایا ان کو یہی مسائل پیش آئے ہیں۔

ہمیں بدلنے میں بہت وقت لگے گا، میری فیملی تعلیم یافتہ ہے لیکن اس کے باوجود وہ اس معاشرے کیوجہ سے مجبور ہیں، اگر میں جرت کروں کہ نہیں میں نے کھلے عام شاعری کرنی ہیں، اپنی سوچ کو فروغ دینی ہیں تو میرے وجہ سے میرے فیملی کے دیگر لڑکیاں متاثر ہوگی۔

زیست خان نے کہا کہ پختون معاشرے سے تعلق رکھنا اور یہاں اپنے صلاحیتوں کا مظاہرہ کر کے جینا بہت مشکل کام ہیں، میں کٹھن حالات سے گزری ہوں، جس کا ذکر میں نے کتاب میں بہت کم کیا ہے، ہمارے مرد اور نام نہاد پختون روایات کے علمبردار دوغلی اخلاقیات کے مالک ہیں۔

ہمارے معاشرے میں کھیتوں میں کام کرنے والے خواتین کو لوگ صرف اس لئے برداشت کرتے ہیں کہ وہ گھر کیلئے کام کرتی ہیں، یہ مردوں کی معاشی مجبوری ہیں۔

انہوں نے کہ میرے گھر میں تعلیم کی باوجود ایسے لوگ موجود ہیں جو مجھے بڑے عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں، مجھے رشتے نہیں پسند، میں ٹیفیکل نہیں ہوں، تو یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں غلط اور بڑا سوچتی ہوں۔

128 پیجز پر مشتمل میری تصنیف صرف ایک کتاب نہیں وہ میرے جسم اور میرے جذبات کے 128 ٹکڑے ہیں جس میں نے اکٹھا کر کے کتاب کا شکل دیا ہیں۔

محقق اور ادیب مولانا خانزیب کہتے ہیں کہ اسلام ہر حوالے سے اعتدال کا قائل ہیں، یعنی نہ کسی بات کو مکمل طور پر رد کرتا ہیں اور نہ ہی قبول کرتا ہیں،شعر اور شاعری کے حوالے سے بھی اسلام نے درمیانی راستہ انتخاب کیا ہے۔

انہون نے کہا کہ قرآن مجید میں شاعروں پر تنقید بھی کی گئی ہیں اور ان کی تعریف بھی کی گئی ہیں، قرآن مجید کی ایک آیت مبارک کا مفہوم ہیں کہ شاعر صحیح بات نہیں کرتے ہیں اور جو وہ کہتے ہیں اس پر خود عمل نہیں کرتے۔

ایک اور جگہ قرآن مجید میں ارشاد ہیں کہ وہ شاعر بہتر ہیں جو شعر کی زبان میں ظالم کو جواب دیتے ہیں۔

مولانا خانزیب نے کہا کہ احادیث مبارک میں بھی شاعری کا ذکر موجود ہیں، حضرت محمدﷺ کے دور میں بھی بڑے بڑے شاعر موجود تھے، حسان بن ثابت بڑے صحابی اور شاعر تھے اس طرح عبداللہ ابن رواحہ جس سے حضرت محمدﷺ خود اشعار سنا کرتے تھے۔

حسن بن ثابت کو محمدﷺ مسجد نبوی میں حکم دیتے تھے کہ آٹھوں کافروں کو اپنی ہی زبان یعنی شاعری میں جواب دو۔ اس طرح ایک حدیث میں آتاہے جس کا مفہوم ہے کہ شعراء جہنم کے کتے ہونگے۔ دوسری جگہ آتا ہے کہ کچھ اشعار علم اور حکمت سے بھرے ہوتے ہیں تو یہ شاعری کے وہ دو مختلف رخ ہیں جس کا ذکر اسلامی تعلیمات میں ملتا ہے۔