خیبرپختونخوا : گندم کی پیداوار کا ہدف نصف بھی حاصل نہ کیا جا سکا

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

بارشوں ، ژالہ باری اور مختلف بیماریوں کی وجہ سے گندم کا ٹارگٹ پورا نہ ہو سکا۔ 2019-20ء میں گندم کا پیداواری ہدف 2 کروڑ 70 لاکھ 30 ہزار ٹن تھا جبکہ گندم کی پیداوار 2 کروڑ 54 لاکھ 57 ہزار ٹن ہوئی جس میں 15 لاکھ 73 ہزار ٹن گندم کا شارٹ فال رہا ۔88 لاکھ 13 ہزار ہیکٹر رقبے پر ملک میں گندم کاشت کی گئی تھی ۔ خیبرپختونخوا میں گندم کی پیداوار دوسرے صوبوں کے مقابلے سب سے زیادہ متاثر ہوئیں۔

دستیاب دستاویزات کے مطابق سال 2019-20 ء میں پنجاب میں 65 لاکھ 15 ہزار ہیکٹر رقبے پر گندم کاشت کی گئی ۔ جس کے لئے ایک کروڑ 96 لاکھ 60 ہزار ٹن کا ٹارگٹ رکھا گیا تھا جبکہ ایک کروڑ 94 لاکھ 2 ہزار ٹن گندم پیدا ہوئی ہے ۔پنجاب میں گندم کی پیداواری ہدف میں 2 لاکھ 58 ہزار کا شارٹ فال رہا۔

سندھ میں 11 لاکھ 34 ہزار ہیکٹر رقبے پر گندم کاشت کی گئی تھی جس کے لئے 38 لاکھ ٹن پیداوار کا ہدف رکھا گیا تھا جبکہ گندم 38 لاکھ 52 ہزار ٹن پیدا ہوئی ہے سندھ نے اپنے ٹارگٹ سے 52 ہزار ٹن گندم زیادہ پیدا کی ہے ۔

خیبرپختونخوا میں 7 لاکھ 47 ہزار ہیکٹر رقبے پر گندم کاشت کی گئی پیداوار کا ہدف 25 لاکھ 70 ہزار ٹن کا ہدف تھا جبکہ گندم 12 لاکھ 20 ہزار ٹن پیدا ہوئی ۔جس میں 13 لاکھ 50 ہزار ٹن کا شارٹ فال رہا ۔

بلوچستان میں 4 لاکھ 17 ہزار ہیکٹر رقبے پر گندم کاشت کی گئی جس کا پیداواری ہدف 10 لاکھ ٹن رکھا گیا جس میں 9 لاکھ 83 ہزار ٹن گندم پیدا کی گئی جس میں 17 ہزار ٹن کا شارٹ فال رہا۔

حکومت کی طرف سے پاکستان میں گندم کی خریداری کا ٹارگٹ 82 لاکھ 50 ہزار ٹن رکھا گیا تھا جبکہ 65 لاکھ 96 ہزار 294 ٹن گندم خریدی گئی جو کہ ٹارگٹ کا 79.96 فیصد بنتا ہے۔ گندم خریداری میں بھی خیبرپختونخوا سب سے پیچھے رہا۔

پنجاب میں خریداری کا ٹارگٹ 45 لاکھ تھا جبکہ 40 لاکھ 81 ہزار 561 ٹن گندم خریدی گئی۔ پنجاب میں 90.70 فیصد ٹارگٹ پورا کیا گیا۔

سندھ میں گندم کی خریداری کا ٹارگٹ 14 لاکھ تک رکھا گیا تھا جبکہ 12 لاکھ 33 ہزار 127 ٹن گندم خریدی گئی ۔ سندھ نے اپنا 88.08 فیصد ٹارگٹ پورا کیا ۔

خیبرپختونخوا نے گندم کی خریداری کا ٹارگٹ 4 لاکھ 50 ہزار ٹن رکھا گیا تھا جبکہ 19 ہزار 885 ٹن صرف گندم خریدی گئی خیبرپختونخوا میں خریداری کا ٹارگٹ 4.42 فیصد پورا کیا گیا ۔

بلوچستان میں ایک لاکھ ٹن گندم خریداری کا ہدف تھا جس میں 83 ہزار 33 ٹن گندم خریدی گئی ۔ بلوچستان نے اپنا ٹارگٹ 83.03 فیصد پورا کیا ۔

پاسکو کا ٹارگٹ 18 لاکھ ٹن تھا جبکہ پاسکو کی طرف سے 11 لاکھ 78 ہزار 688 ٹن گندم خریدی گئی ۔ پاسکو نے اپنا 65.48 فیصد ٹارگٹ پورا کیا ۔پنجاب میں حالیہ بارشوں ، ژالہ باری کی وجہ سے 12 لاکھ ایکڑ رقبہ متاثر ہوا تھا ۔