شمالی وزیرستان، نادرا دفتر منتقلی کے خلاف کابل خیل سراپا احتجاج

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

شمالی وزیرستان میں شیواہ سے نادرا آفس کی دوسرے علاقے منتقلی کے خلاف مقامی آبادی میں غم و غصہ پھیل گیا ہے اور انہوں نے احتجاجی سلسلہ شروع کردیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ اور نادرا حکام نے چار سالوں سے تحصیل شیواہ کے نادرا دفتر کو سپین وام منتقل کردیا ہے جس کے خلاف کابل خیل قبیلے نے آج بروز اتوار احتجاجی مظاہرہ کیا اور ٹل میرعلی روڈ کو کئی گھنٹوں تک بند کئے رکھا۔

مقامی مشر اخونزادہ فقیر سلطان نے احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قبیلے کے حقوق پر کسی کو ڈاکہ ڈالنے نہیں دیا جائے گا اور نادرا آفس تحصیل شیواہ سے منتقل کرنا کابل خیل کو بنیادی سہولیات سے محروم کرنے کی مترادف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا، ڈی سی اور ڈی جی نادرا نے ہم سے نادرا آفس تحصیل شیوہ سے منتقل نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب اپنے وعدے مکر گئے ہیں۔

اس موقع پر  کابل خیل کے مشران نے واضح پیغام دیا ہے کہ جب تک نادرا آفس واپس تحصیل شیوہ منتقل نہیں کیا جاتا تب تک وقتا فوقتا مظاہرے جاری رہیں گے اور اسی طرح ٹل میرعلی روڈ کو بند کیا جاتا رہے گا۔

خیال رہے کہ یہ نادرا دفتر پچھلے چار سالوں سے تحصیل شیواہ میں فعال ہے لیکن اب تک نہ نہ تو اس کی کوئی باقاعدہ عمارت بنی ہے اور نہ آنے والے لوگوں کے لئے بیٹھنے، پانی و سائے سمیت دوسری سہولیات ہیں۔

دوسری طرف یہ خبریں بھی زیر گردش ہیں کہ چونکہ تحصیل شیواہ میں کرم تنگی ڈیم بننے جا رہا ہے جس سے پورا تحصیل زیرآب آئگا اس لیے حکومت نے تحصیل شیواہ میں تمام ترقیاتی کاموں پر پابندی عائد کی ہے۔ یہ افواہیں مقامی سطح پر پھیلی ہوئی ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے ان کی کوئی تصدیق نہیں ہوسکی ہیں۔