قبائلی ضلع : انسپکٹر جنرل آف پولیس کا اورکزئی کا پہلا تاریخی دورہ

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے قبائلی ضلع اورکزئی کا پہلا تاریخی دورہ کیا. کلایہ ہیڈ کوارٹر پہنچنے پر آئی جی پی کا پرتپاک استقبال کیا گیا.

پولیس کے چاق و چوبند دستے نے آئی جی پی کو سلامی پیش کی. اورکزئی پولیس حکام کی طرف سے آئی جی پی کو روایتی پگڑی پہنائی گئی اور سوینئیر پیش کئے گیے.

ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس کوہاٹ ریجن طیب حفیظ چیمہ، کمانڈنٹ اورکزئی سکاؤٹس بریگیڈیئر ذاکر اللہ، ڈی پی او اورکزئی نثار احمد، ڈی سی اورکزئی واصل خان، پولیس وعسکری اور ضلعی انتظامیہ کے دیگرحکام بھی آئی جی پی کے ہمراہ تھے.

آئی جی پی نے کلایہ ہیڈ کوارٹر اورکزئی میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ہاؤس کا افتتاح کیا اور پودا لگا کر گرین پاکستان شجر کاری مہم میں شرکت کی.

انسپکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے کلایہ ہیڈ کوارٹر میں اورکزئی پولیس کے ٹریننگ کیمپس کا بھی دورہ کیا جہاں انہیں پولیس کے تربیتی پروگرام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی.

آئی جی پی نے اورکزئی کے زیر تربیت پولیس اہلکاروں کی پیشہ ورانہ تربیتی عمل کا معائنہ کیا اور پولیس جوانون کو اپنی تربیتی عمل پر خصوصی توجہ مرکوز رکھنے کی تاکید کی.

پولیس جوانوں کو ہدایت کی گئی کہ ٹریننگ سیشن سے حاصل کردہ علم اور تجربے کو بروئے کار لاکر عملی زندگی میں اپنی تمام تر صلاحیتیں عوام کی خدمت و تحفظ پر صرف کریں. آئی جی پی نے فائرنگ رینج کا دورہ کرکے مقامی پولیس کے زیر تربیت جوانوں کی نشانہ بازی کا مظاہرہ دیکھا اور خود نشانہ باندھ کر فائرنگ میں حصہ لیا.

اس موقع پر انسپکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے پولیس جوانوں سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے امن وامان کے قیام اور دہشت گردی کی بیخ کنی میں پولیس، آرمی، سکاؤٹس اور عوام کے کردار کوسراہا.

آئی جی پی کا کہناتھا کہ خیبر پختونخوا پولیس نے درپیش چیلنجز اور محدود وسائل کے باوجود ایسے کارہائے نمایاں انجام دئیے جسکی عالمی برداری بھی معترف ہوئی.

آئی جی پی نے کہا کہ صوبے میں انضمام کے بعد قبائلی اضلاع کی پولیس خیبر پختونخوا پولیس فورس کا حصہ بن چکی ہے اور انہیں تمام مراعات حاصل ہیں. انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں پائیدار امن کی بحالی سیکیورٹی فورسز اور عوام کی قربانیوں کامرہون منت ہے.

انہوں نے کہا کہ قربانیوں کے نتیجے میں حاصل ہونیوالے امن عمل کو کسی صورت سبوتاژ نہیں ہونے دیا جائےگا.