سانحہ اے پی ایس، رپورٹ منظر عام پر آ گئی

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

سانحہ اے پی ایس کی جوڈیشل انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں دھمکیوں کے بعد سکیورٹی گارڈز کی کم تعداد اور درست مقامات پر عدم تعیناتی کی نشاندہی کی گئی ہے۔

سانحہ اے پی ایس پر بننے والی جوڈیشل انکوائری کمیشن نے سانحے کی رپورٹ پبلک کر دی ہے، جس میں سانحہ اے پی ایس کو سکیورٹی کی ناکامی قرار دے دیا گیا ہے، رپورٹ میں کمیشن نے اسکول کی سکیورٹی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ دھمکیوں کے باوجود سکیورٹی گارڈز کی کم تعداد اور درست مقامات پر عدم تعیناتی بھی نقصان کا سبب بنی۔

غفلت کا مظاہرہ کرنے والی یونٹ کے متعلقہ افسران و اہلکاروں کو سزائیں بھی دی گئیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دھماکوں اور شدید فائرنگ میں سکیورٹی گارڈز جمود کا شکار تھے، دہشت گرد اسکول کے عقب سے بغیر کسی مزاحمت داخل ہوئے، اگر سکیورٹی گارڈز مزاحمت کرتے تو شاید جانی نقصان اتنا نہ ہوتا، غداری سے سکیورٹی پر سمجھوتہ ہوا اور دہشتگردوں کا منصوبہ کامیاب ہوا۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان سے دہشتگرد ممکنہ طور پر مہاجرین کے روپ میں داخل ہوئے، اور دہشتگردوں کو مقامی افراد کی طرف سے سہولت کاری ملی جو ناقابل معافی ہے، اپنا ہی خون غداری کر جائے تو نتائج بہت سنگین ہوتے ہیں، کوئی ایجنسی ایسے حملوں کا تدارک نہیں کر سکتی بالخصوص جب دشمن اندر سے ہو۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گشت پر مامور سکیورٹی اہلکار دہشت گردوں کی جانب سے جلائی گئی گاڑی کی جانب چلے گئے، آگ سکیورٹی اہلکاروں کو دھوکہ دینے کیلئے لگائی تھی اور پھر گشت پر مامور سکیورٹی اہلکاروں کی دوسری گاڑی نے پہنچ کر دہشت گردوں کا مقابلہ کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیکٹا نے عسکری مراکز، حکام اور انکی فیملیز پر حملوں کا عمومی الرٹ جاری کیا، نیکٹا الرٹ کے بعد فوج نے دہشتگردوں کیخلاف کارروائیاں شروع کیں، لیکن سانحہ اے پی ایس نے فوج کی کامیابیوں کو پس پشت ڈالا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سانحہ آرمی پبلک اسکول سے متعلق جوڈیشل کمیشن رپورٹ پبلک کرنے اوراٹارنی جنرل کے رپورٹ پرکمنٹس کو بھی پبلک کرنے کا حکم دیا تھا۔