قبائلی اضلاع کے 22 لاکھ افراد صحت کی سہولیات سے محروم

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

خیبرپختونخوا میں نئے ضم ہونے والے 7 قبائلی اضلاع میں 14لاکھ افراد پانی، 22لاکھ افراد صحت کی سہولیات اور 40فیصد آبادی بجلی سے محروم ہیں۔

ضم اضلاع میں سہولیات سے فقدان سے متعلق عالمی اداروں اور لوکل گورنمنٹ خیبر پختونخوا کے مرتب ہونے والی رپورٹ کے مطابق ضم اضلاع میں 170سول ڈسپنسریاں ، 76بی ایچ یوز ، 10زچہ بچہ ہسپتال ، 16سول ہسپتال، 9رورل ہیلتھ سینٹرز ، 4طبی سینٹرز ، غیر فعال ہے۔

ضم اضلاع میں لڑکیوں کے لئے صرف دو کالجز ہیں۔ 122کونسلوں میں لڑکیوں کے لئے کوئی بھی تعلیمی ادارہ موجود نہیں ہے جبکہ بیشتر سکول غیر فعال ہے۔

رپورٹ کے مطابق محکمہ بلدیات نے 7 اضلاع کے پچیس تحصیلوں کو 702ویلیج و نیبر ہوڈ کونسلوں میں تقسیم کیا ہے ضم اضلاع کے 10تحصیلوں میں ڈاکخانہ ، 14تحصیلوں میں کوئی سبزی منڈی نہیں ہے۔