سنٹرل کرم کے عمائدین کی مطالبات کے حق میں پشاور میں پریس کانفرنس

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

سابقہ فاٹا میں سنٹرل کرم  کے علی شیر زئی، قوم مسوزئی، پاڑہ چمکنی اور زیمشت کے عمائدین نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس منقد کیا۔

پریس کانفرنس میں عمائدین نے کہا ہے کہ سال 2009 میں ہم ملٹری آپریشن کی وجہ سے اپنے علاقوں سے بے گھر ہوگئے اور شدید متاثر ہوئے۔ اس دوران یہ اقوام جن کی آبادی تقریباً چالیس ہزار سے زیادہ خاندانوں پر مشتمل تھی۔ اپنا سب کچھ چھوڑ کر خالی ہاتھوں گھروں سے نکلنے پر مجبور ہوگئے اور مختلف آئی ڈی پیز کیمپوں میں رہائش پزیر ہونے لگے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس دوران ان کی زندگی کا سب کچھ تباہ برباد ہوگیا اور ان کی زیادہ آبادی درانی کیمپ واقع ضلع کرم میں رہائش پزیر ہونے لگی۔ چند گھرانے اپنے عزیز و اقارب کے ہاں رہنے لگے۔ یہاں تک کہ کچھ گھرانے تو اپنے علاقوں سے دور علاقوں تک ہجرت پر مجبور ہوگئے۔

انہوں نے بتایا  کہ  تین چار سال بعد 2012 تا 2015 کے درمیان ان کی واپسی شروع ہوئی۔ واپسی پر ان لوگوں کے تمام مال مویشی، گھر بار، کھیتی باڑی سب کچھ کا خاتمہ ہو چکا تھا اور محض از سر نو زندگی شروع ہونے لگے۔

قبائلی عمائدین نے کہا کہ مگر ان کے پاس زندگی کی بنیادی ضروریات کے لئے کچھ بھی نہیں تھا۔ ان کے سروں کے اوپر چھت تک نہیں تھی اور کھانے پینے کے لئے دو وقت کی روٹی میسر نہیں تھی۔ ان کی واپسی پر سرکار نے ان خاندانوں کو بےیار و مدد گار چھوڑا۔ پھر 2017 میں واپسی کے پانچ سال بعد سی ایل سی پی (سیٹیزن لاسز کمپنسیشن) کے نام پہ ایک سروے شروع کیا گیا۔  مگر اس سروے کو ادھورا چھوڑ دیا گیا پھر ان بے گھر خاندانوں نے 22 فروری 2018 میں پشاور پریس کلب کے سامنے تین دن تک پر امن دھرنا دیا۔ اس کے بعد متعلقہ حکام نے ان خاندانوں کے ساتھ وعدے کئے اور ان کے تمام جائز مطالبات بہت جلد حل کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ پھر سرکار نے سی ایل سی پی سروے کے مطابق پورے منہدم گھر کے لئے چار لاکھ روپے مقرر کئے اور جزوی تباہ شدہ مکان کے لئے ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے رکھے، مگر یہ رقم جو کہ عشر عشیر کی مانند ہے ابھی تک تمام خاندانوں کو مہیا نہیں کی گئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سروے بھی مکمل نہیں ہوا ہے، ابھی تک سات ہزار نو سو چھ (7906) گھرانوں کا سروے ہوگیا ہے۔ ان میں سے مکمل تباہ شدہ گھرانوں کی تعداد پانچ ہزار دو سو چھیاسی (5286) او جزوی طور پر تباہ شدہ مکانوں کی تعداد دو ہزار چھ سو بیس (2620) بتائی گئی ہے اور ان بے گھر خاندانوں میں سے صرف 2547 خاندانوں کو صرف سروے ٹوکن ملے ہیں لیکن کسی کو بھی ان تین سالوں میں معاوضہ نہیں دیا گیا۔

سرکار نے ان تمام مراحل میں صرف 6000 کے لگ بھگ گھرانوں کو کسی نہ کسی طرح مستفید کیا ہے مگر کل ہزاروں خاندان دس سال عرصہ گزرنے کے باوجود سرکار کے معاوضے سے مکمل طور پر محروم رکھے گئے ہیں اور ان میں سے اکثریت بے گھر خاندانوں کے سروے بھی تاحال نہیں ہوئے ہیں جبکہ سرکار کے مختلف محکمے دوبارہ آبادکاری کے نام پر اربوں روپے فنڈ لگانے کے دعوے کرتے رہے ہیں مگر بے گھر خاندانوں کو ابھی تک چھت کا سایہ فراہم نہیں کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لہذا ضلع کرم میں مستقل امن و امان برقرار رکھنے کے لئے ان تمام خٖاندانوں کو ہنگامی طور پر باعزت طریقے سے اپنے علاقوں میں بحال کرایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہماری فریاد کو نہ سنا گیا تو پھر سنٹرل کرم کے یہ اقوام احتجاج پر مجبور ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یاد رہے کہ سنٹرل کرم پاکستان کا وہ واحد علاقہ ہے جو تعلیم، صحت، کمیونیکیشن، بجلی، گھروں کے چھت جیسے بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ ہمارے مطالبات درج ذیل ہیں۔

سنٹرل کرم کے وہ بے گھر خاندان جو سروے سے رہ چکے ہیں ان کی سروے ہنگامی طور پر مکمل کیا جائے۔ جن خاندانوں کو سروے ٹوکن مل چکے ہیں ان کو فی الفور چیک ریلیز کیا جائے۔ آپریشن کے دوران جو لوگ فوت یا زخمی ہوچکے ہیں ان کو دوسرے علاقوں کی طرح پورا معاوضہ دیا جائے۔ ایسے گھرانے جو ابھی تک بہ وجہ مجبوری اپنے علاقوں کو واپس نہیں ہو چکے ہیں ان کی واپسی کا بندوبست کیا جائے۔