سب ڈویژن ایف آر پشاور سے نقل مکانی کی وجوہات

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

سٹیزن جرنلسٹ شمائلہ آفریدی

پانی خوراک اور اس طرح کی دیگر بنیادی ضروریات کے حصول کیلئے بنی نوع انسان میں نقل مکانی کا عمل زمانہ قدیم سے چلا آ رہا ہے۔ انسان ہی نہیں چرند و پرند بھی نقل مکانی کے انہی فطری اصولوں پر عمل کرتے ہیں۔ چونکہ یہ نقل مکانی بنیادی ضروریات میں کمی و بیشی کی بدولت ہی واقع ہوتی ہے لہذا اس صورت میں مرضی و منشا کے بجائے مجبوری کا عنصر نمایاں ہوتا ہے۔ مختلف ادوار میں نقل مکانی کے اسباب مختلف رہے ہیں لیکن اہم مسئلہ خوراک معاش اور بنیادی ضروریات ہی رہے ہیں۔

پشاور سے جنوب کی طرف 35 کلومیٹر کے فاصلے پر چٹیل پہاڑوں کی سرزمین فرنٹیئر ریجن پشاور موجودہ سب ڈویژن حسن خیل کا علاقہ واقع ہے جس کا رقبہ 261 مربع کلومیٹر ہے اور جو 75 فیصد سنگلاخ پہاڑوں جبکہ 25 فیصد میدانوں پر مشتمل ہے۔ سابقہ ایف آر پشاور چار اقوام جناکوڑ، اشوخیل، جواکی اور حسن خیل پر مشتمل ہے اور ان چاروں اقوام کو حسن خیل سب ڈویژن بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں صدیوں سے اباد آفریدی قبیلے اپنی منفرد تہذیبی روایات، ثقافت، بہادری اور غیرت و حمیت کی وجہ سے منفرد تاریخی حیثیت رکھتے ہیں۔ سابقہ فاٹا کے دوسرے علاقوں کی طرح ایف آر پشاور بھی ہمیشہ سے بنیادی ضروریات سے محروم رہا ہے جس کی وجہ سے دوسرے علاقوں کی طرح یہاں بھی نقل مکانی کئی دہاٸیوں سے وقتاً فوقتاً ہوتی رہی ہے۔

موسی درہ

2017 کی مردم شماری کے اعداد وشمار کے مطابق ایف آر پشاور چاروں اقوام کی مجموعی آبادی 64691 نفوس اور سات ہزار کنبوں پر مشتمل ہے۔ بوڑہ جواکی کی آبادی 4,691، پستونی جواکی 653، موسی درہ 1,794 جیناکوڑ 26,229، حسن خیل 14,728 جبکہ اشوخیل کی آبادی 17,317 نفوس پر مشتمل ہے۔

بوڑہ جواکی سے تعلق رکھنے والے سوشل ورکر عارف آفریدی کے مطابق ایف آر پشاور سے لوگوں کی نقل مکانی کا بڑا سبب یہ تھا کہ یہاں بنیادی ضروریات کمی تھی، صحت، تعلیم کی سہولیات اور روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر تھے، رہی سہی کسر 2010 میں عسکریت پسندی کی لہر اور اس کے نتیجے میں ہونے والے فوجی آپریشن نے پوری کر دی جس کے دوران 23،000 ہزار قبائیلوں نے شورش زدہ علاقوں سے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کی، 60 فیصد لوگ دوسرے شہروں کی طرف نقل مکانی کے بعد وہاں مستقل آباد ہو گئے جبکہ 40 فیصد لوگ واپس ایف آر پشاور آ کر یہاں پھر سے آباد ہو گئے۔

عارف آفریدی کے مطابق عسکری آپریشن کے دوران جواکی قوم کی دونوں شاخیں (بوڑہ، پستونے) سب سے زیادہ متاثر ہوٸیں کیونکہ انہی دو علاقوں میں عسکریت پسندوں اور فورسز کی بار بار جھڑپیں ہوتی رہیں جس کی وجہ سے یہاں سے آبادی کا مکمل انخلا کیا گیا۔ دوسری طرف نقل مکانی کے بعد بارشوں اور سیلابوں نے 60 فیصد خالی گھروں کو تباہی سے دوچار کیا۔ عسکریت پسندوں اور فورسز کے درمیان جھڑپوں میں بھی رہائشی مکانوں اور سرکاری عمارات کو کافی نقصان پہنچا حتی کے یہاں کا مکمل انفراسٹرکچر بالکل تباہی سے دوچار ہوا۔ بہرحال امن کی فضاء قائم ہونے کے بعد اب بھی تقریباً 70 گھر ( دس فی صد) خالی پڑے ہیں۔ انفرااسٹرکچر کی مکمل تباہی اور مکانات کی مسماری کے بعد نقل مکانی کرنے والوں کی اکثریت نے دوسرے شہروں میں سکونت اختیار کر لی ہے جبکہ اپنے تباہ شدہ مکانات کی دوبارہ تعمیر کیلئے نہ تو قبائل نے دوبارہ کوئی خاص اقدامات اٹھائے ہیں اور نہ ہی حکومتی سطح پر لوگوں کی دوبارہ ابادکاری یا بحالی کے لئے کوئی خاطر خواہ توجہ دی گٸ ہے۔

پستونی جواکی سے تعلق رکھنے والا سماجی ورکر عابد آفریدی نے پستونی سے نقل مکانی کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ تعلیم، روزگار، صحت، ٹرانسپورٹ سمیت دوسری بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی یہاں کے بڑے مساٸل ہیں۔

عابد آفریدی نے بتایا کہ پستونی قوم اس وقت 653 نفوس پر مشتمل ہے جو دوسرے علاقوں کی نسبت کافی کم تعداد ہے، پستونی میں لگ بھگ 130 مکانات ویران پڑے ہیں، 40 فی صد علاقہ مکین، جن کی اکثریت پسماندہ ہے، واپس آئے ہیں لیکن 60 فیصد نے دوسرے شہروں میں مستقل رہائش اختیار کر لی ہے، ”اب جبکہ علاقے میں امن کی فضاء دوبارہ قائم ہو گئی ہے لیکن بنیادی سہولیات کے فقدان وجہ سے یہاں کے قبائل دوبارہ یہاں آباد ہونے کیلئے راضی نہیں ہیں۔

پستنی یا پستونے

اشوخیل سے تعلق رکھنے والے سمیع اللہ آفریدی نے اشوخیل کی دونوں شاخوں (پخی فریدی) سے نقل مکانی کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ ایف آر پشاور میں اشوخیل انتہائی پسماندہ قوم ہے، یہاں سے بڑی تعداد میں نقل مکانی ہو رہی ہے، 55 فی صد کے قریب مکانات خالی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ علاقے میں بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے لوگ بڑے پیمانے پر شہری علاقوں کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں، یہاں سے نقل مکانی کی ایک بڑی وجہ پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی ہے، پخی فریدی کے مکین عرصہ دراز سے پانی کے مسئلے سے دوچار ہیں، گاؤں کے لوگ دور دراز کےعلاقوں سے پانی لاتے ہیں جنہیں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، پورے اشوخیل میں حکومتی سطح پر پانی کا کوئی بڑا منصوبہ اج تک شروع نہیں کیا جا سکا اور لوگوں کی اکثریت بڑے بڑے تالاب بنا کر بارش کا پانی ذخیرہ کرتی ہے جو پینے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

سمیع اللہ آفریدی کے مطابق نقل مکانی کی دوسری بنیادی وجہ صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی ہے، چھوٹے سے چھوٹے مریض کو بھی علاج و معالجے کے لئے پشاور منتقل کرنا پڑتا ہے کیونکہ علاقے میں نہ ہی کوئی پرائیویٹ ڈسپنسری یا کلینک ہے اور نہ ہی کوئی قابل ذکر سرکاری ہسپتال، تیسری اہم وجہ سکولوں کی بندش ہے، پچھلے دس سالوں میں اشوخیل کی ہر شاخ میں ایک ایک سکول موجود تھا پر وقت کے ساتھ ساتھ تمام سکول بند ہو گئے جبکہ کچھ سکول عسکریت پسندوں کے ہاتھوں تباہ ہوئے، اس وقت میاں خان خیل کا ایک ہی سکول ہے جس میں بچوں کی تعداد زیادہ اور اساتذہ کی تعداد کم ہے۔

سمیع آفریدی نے بتایا کہ نقل مکانی کو اگر روکنا ہے تو اس علاقے میں پینے کے صاف پانی کے منصوبوں، سکولوں کی دوبارہ تعمیر، سڑکوں کی تعمیر، صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے ایک بڑے ہسپتال خاص طور پر پخی، فریدی اور بوڑا کے مرکزی ہسپتالوں کی تعمیر نو اور بحالی پر توجہ دی جائے، بلاشبہ اگر یہاں کا انفراسٹرکچر صحیح معنوں میں بحال کیا گیا اور بنیادی ضروریات کی فراہمی ممکن بنائی گٸی تو یہاں کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نقل مکانی ترک کر کے اپنے علاقوں میں دوبارہ آباد ہو سکتی ہے۔

موسی درہ سے تعلق رکھنے والے مشہور و معروف شاعر، ادیب اور لکھاری اقرار آفریدی نے بتایا کہ موسی درہ، جو قوم جناکوڑ کی شاخ ہے، ایف آر پشاور کا پسماندہ ترین علاقہ ہے، سہولیات کی عدم فراہمی اور عسکریت پسندی اور فورسز کے آپریشنز کہ وجہ سے یہاں سے بھی بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی ہے، آج بھی 55 فیصد مکانات خالی پڑے ہیں، یہاں کے مکانات کے ساتھ ساتھ سکولز ہسپتالوں کا انفرا سٹرکچر بھی خستہ حال ہے۔

انھوں نے بتایا کہ یہ علاقہ شروع سے ہی پسماندہ اور بنیادی ضروریات سے محروم تھا لیکن نائن الیون کے بعد دہشتگردی کی لہر نے اس علاقے کو مزید پسماندگی کی طرف دھکیل دیا اور اس شورش نے بڑے پیمانے پر یہاں کے انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچایا، اس وقت موسی درہ میں لڑکوں کا ایک ہائی سکول ہے جو 2012 میں ملٹری آپریشن کے دوران بم دھماکے کی وجہ سے مکمل طور پر تباہ ہو چکا اور ابھی تک تعمیر نہ ہو سکا، اسی طرح یہاں کا پراٸمری سکول بھی ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا ہے اور بچے سرد و گرم موسم میں خیموں میں بیٹھ کر تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے پر مجبور ہیں، ”موسی درہ میں تباہ شدہ سکولوں و ہسپتالوں کی تعمیر اور بحالی کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔

سابق ایف آر پشاور میں عسکری پسندی اور شورش کی لہر آنے سے پہلے امن و سکون کا ماحول قاٸم تھا، گاؤں دیہاتوں کے محلے پررونق تھے، حجرے، مسجدیں اور گھر آباد تھے اگرچہ ان علاقوں سے نقل مکانی کی لہر غیرمحسوس طریقے سے کئی دہاٸیوں سے جاری تھی لیکن دہشتگردی کی لہر نے علاقے کے ماحول پر کافی اثر ڈالا اور بدامنی کی وجہ سے جتنے بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ شورش میں جو لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں وہ اب واپسی پر آمادہ نہیں کیونکہ ان کی اکثریت دوسرے علاقوں میں ایڈجسٹ ہو چکی ہے یا پھر وہاں ان کا روزگار چل نکلا ہے جبکہ دوسری طرف یہاں نقل مکانی کرنے والوں کے مکانات کافی عرصے سے خالی ہونے کی وجہ سے کھنڈر بن چکے ہیں۔

لوگوں کے واپس اپنے آبائی علاقوں کی طرف آمد سے انکار کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ حکومتی سطح پر بنیادی سہولیات کو دوبارہ بحال کرنے کے حوالے سے کوئی انتظامات نہیں کئے گئے ہیں۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب کوئی قوم نامساعد حالات کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہوتی ہے تو نئے علاقوں میں انہیں نہ صرف آباد ہونے میں وقت لگ جاتا ہے بلکہ کمزور معاشی حالات اور بکھرے ہوئے سماجی ڈھانچے کی وجہ سے بہت جلد نئی تہذیب اور روایات کو اپنی معاشرت کا حصہ بنانے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور اس طرح آہستہ آہستہ غیر شعوری طور پر وہ قوم اپنی تہذیب، روایات اور ثقافت کو بالکل بھول جاتی ہے اور ایک نئی تہذیبی رنگ میں رنگ جاتی ہے۔

بالکل اسی طرح کے مسائل ان قباٸلی آباد کاروں کو بھی درپیش ہیں۔ ایک طرف اگر یہ لوگ نامساعد حالات، بنیادی سہولیات کے فقدان اور بدامنی کی وجہ سے اپنے علاقوں کی طرف واپس آنے سے کترا رہے ہیں تو دوسری طرف نہ صرف اپنے آبائی علاقوں میں موجود ان کی املاک اور بچے کھچے گھر مزید کھنڈارات میں تبدیل ہو رہے ہیں بلکہ نئے علاقوں میں آباد ان کی نئی نسل بھی اپنی روایات، ثقافت اور تہذیب سے بالکل بے خبر ہیں۔

اگر نقل مکانی کا سلسلہ یونہی جاری رہا تو خطرہ ہے کہ ایک پوری تہذیب و ثقافت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اس نقل مکانی کی وجہ صرف عسکریت پسندی یا شورش نہیں بلکہ یہ سلسلہ کئی دہاٸیوں سے چلا آ رہا ہے۔

اگر ہم تاریخی طور پر جائزہ لیں تو یہ نقل مکانی پاکستان کے قیام کے بعد سے زیادہ شد و مد کے ساتھ دکھائی دیتی ہے۔ پچاس، ساٹھ اور ستر کی دہاٸیوں میں یہ نقل مکانی قرب و جوار کے علاقوں تک محدود تھی جس میں اکثریت نے شرکیرہ، پشاور، مردان اور میرہ کیچوڑی کی طرف نقل مکانی کی اور وہاں مستقل طور پر آباد ہوئے۔

بوڑہ، جواکی

نقل مکانی کی دوسری بڑی لہر اسی اور نوے کی دھائی میں کراچی کی طرف ہوئی۔ بہت سارے خاندان معاش اور بہتر معیار زندگی کے لئے کراچی اور دوسرے شہروں کی طرف منتقل ہوئے۔ نقل مکانی کی تیسری لہر عسکریت پسندی اور شورش کی وجہ سے اس صدی کی ابتدائی دہائی میں شروع ہوئی جو دوسری دہائی کے بعد شاید تیسری دہائی میں بھی جاری رہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت نہ صرف اس قباٸلی علاقے بلکہ تمام دیہاتی علاقوں کی طرف توجہ دے اور یہاں صحت، تعلیم اور روزگار کی سہولیات کی فراہمی اور بہتر انفراسٹرکچر کی تعمیر یقینی بنائے تاکہ شہری اور دیہاتی آبادیوں کے درمیان توازن کو برقرار رکھا جا سکے۔

شہری علاقوں کی طرف بے تحاشہ نقل مکانی نے شہروں میں بھی گھمبیر صورتحال پیدا کی ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ تو زرعی پیداوار کا ہے، شہروں کی طرف نقل مکانی سے زمینیں بنجر اور نتیجتاً زرعی پیداوار دن بدن کم ہو رہی ہے، مذکورہ قباٸلی علاقے میں صحت، تعلیم، معاش اور پانی بنیادی مساٸل میں شمار کئے جاتے ہیں۔

ایک عام تاثر یہ بھی ہے کہ سابقہ فاٹا سیکرٹریٹ اور پولیٹیکل ایجنٹ کی مبینہ بدعنوانیوں کی وجہ سے مذکورہ علاقوں میں کئی دھاٸیوں سے کوئی خاطر خواہ ترقیاتی کام نہیں ہو سکا، سینکڑوں ترقیاتی منصوبے اور نوکریاں صرف پولیٹیکل آفس کے دفتری کاغذات میں موجود رہیں لیکن عملی طور پر ان کا نام و نشان تک نہیں، سینکڑوں بوگس نوکریاں کوڑیوں کے مول بیچی گئیں جن کا آج تک پتہ نہیں چل سکا۔

ان علاقوں کے باسیوں کے خیال میں ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ترجیحی بنیادوں پر دہشت گردی سے متاثرہ ان علاقوں میں تعمیر نو کا عمل شروع کرے، سکول، ہسپتال، تباہ حال سڑکیں اور آبنوشی اور آب پاشی کے منصوبے اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لئے ٹھوس اقدامات کرے اور نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی دوبارہ اپنے علاقوں میں بحالی کے عمل میں مدد کرے، انہیں روزگار کے مواقع فراہم کرے اور گیس اور بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائے۔

نیز یہاں کے لوگوں کی کونسلنگ کی جائے، زراعت، ڈیری فارمنگ اور دوسری گھریلو صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور اس حوالے سے لوگوں کی مناسب تربیت کا اہتمام کیا جائے۔

یقیناً اگر لوگوں کو ایک خوشحال اور آسودہ و پرامن ماحول فراہم کیا جائے تو یہ سب لوگ بخوشی اپنے علاقوں کو واپس جائیں گے اور اپنے علاقے اور ملک کی تعمیر و ترقی میں بھرپور حصہ لیں گے۔