بی آر ٹی سروس بند کرنے کا مقصد جانی نقصان سے بچنا ہے

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و بلدیات کامران بنگش نے بی آر ٹی سروس معطل ہونے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سروس کو عارضی طور پر بند کرنے کا بنیادی مقصد جانی نقصان سے بچنا ہے جبکہ بسوں میں آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لیے چائنہ سے متعلقہ بسوں کی مینوفیکچرنگ ٹیم پشاور پہنچ چکی ہے۔ متعلقہ چائینیز ٹیم سروس کو مانیٹر کر رہی ہے، ٹیکنیکل رپورٹ جلد جمع ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ آگ لگنے کی روک تھام کے لیے ایک دفعہ پھر سے چائینیز ٹیم سے بسوں کا معائنہ کرا رہے ہیں مکمل کلیئرنس کے بعد بی آر ٹی بس سروس دوبارہ چلا دی جائے۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و بلدیات کامران بنگش نے حیات آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا۔

معاون خصوصی کامران بنگش نے بی آر ٹی بس سروس پر تنقیدی رویے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں احساس ہے کہ بس سروس عارضی طور پر بند کرنے سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن ہم عوامی تحفظ پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تنقید ہوتی رہتی ہیں لیکن ہم عوامی تحفظ و مفاد کو سب سے بالا تر رکھیں گے۔

بی آر ٹی سروس دوبارہ شروع کرنے کے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے معاون خصوصی کامران بنگش نے کہا کہ چائینیز ٹیم کی جانب سے جب تک بسوں کی کلئیرنس نہیں آتی تب تک سروس معطل رہے گی کیونکہ اگر آگ لگنے سے کسی بھی انسانی جان کو نقصان پہنچا تو اس کا ازالہ پھر مشکل ہوگا۔بی آر ٹی بسز میں آگ لگنے کی وجوہات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر کمنٹ کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے اطلاعات و بلدیات کامران بنگش نے کہا کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق کچھ بسوں میں تکنیکی ایشو ہے جبکہ مسئلہ حل کرنے کے لیے چائینیز ٹیم بھی پہنچ چکی ہے۔

یاد رہے بی آرٹی کا افتتاح وزیراعظم عمران خان نے 13 اگست 2020 کو کیا تھا۔ خیبر پختونخوا کا میگا پراجیکٹ بی آر ٹی کا سنگ بنیاد اکتوبر 2017 میں سابق وزیراعلیٗ پرویز خٹک کے دور حکومت میں رکھا گیا جس کی تکمیل کے لیے 6 ماہ کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی تاہم اس دوران کم وبیش 8 مرتبہ منصوبے کے افتتاح کے حوالے سے ڈیڈ لائنز دی گئیں۔

منصوبے پر لاگت کا ابتدائی تخمیہ 49 ارب روپے لگایا گیا تھا تاہم منصوبے کے ڈیزائن میں نقائص کے باعث اس میں دو درجن سے زائد مرتبہ تبدیلیاں لائی گئیں جس سے اس کی لاگت 71 ارب روپے سے تجاوز کرگئی۔