قبائلی اضلاع : 1100 ریسکیو اہلکار ذمہ داریاں اٹھانے کے لئے تیار

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

قبائلی اضلاع میں نئے قائم ہونے والے ریسکیو 1122 میں بھرتی ہونے والے  1100 ریسکیو اہلکاروں کی تربیت مکمل ہوگئی۔

چارسدہ سپورٹس کمپلیکس میں ریسکیو 1122 کے تحت تربیت مکمل کرنے والے کیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہاہے کہ ضم شدہ قبائلی علاقوں میں ریسکیو سروسز 1122 کی کامیاب توسیع سے صوبائی حکومت کا قبائلی عوام سے کیا گیا ایک اور وعدہ مکمل ہو گیا کیونکہ اس مقصد کے لئے تربیت مکمل کرنے والے 1100 ریسکیو کیڈٹس کا تعلق بھی قبائلی اضلاع سے ہے۔

صوبائی حکومت تمام تر اصلاحات اوراداروں کو ضلع اور تحصیل کی سطح پر توسیع دینے کے لئے کوشاں ہے تاکہ عوام کو ان کی دہلیز پر خدمات کی فراہمی یقینی ہو سکے۔

پی ٹی آئی کی حکومت سے پہلے صوبے کے صرف دو اضلاع پشاور اور مردان میں ریسکیو سٹیشنز قائم تھے، پی ٹی آئی کی حکومت اب تک صوبہ بھر میں 90ریسکیو سٹیشنز قائم کر چکی ہے جبکہ صوبے کے دور افتادہ علاقوں میں بھی ریسکیو سٹیشنز جلد فعال کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام کیڈٹس ریسکیو خدمات کی انجام دہی کے لئے قبائلی علاقوں میں تعینات کئے جائیں گے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع اور سابقہ ایف آرز میں ریسکیو 1122 سٹیشنز کا قیام بھی موجودہ حکومت کا اہم کارنامہ ہے۔ انہوں نے اس موقع پر ریسکیو اہلکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ریسکیو اہلکار ہر ایمرجنسی اور آفت میں فرنٹ لائن پر کردار ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ سیلاب اور مہمند کان حادثہ کے دوران ریسکیو اہلکاروں نے جو کردار ادا کیا وہ سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے ریسکیو 1122 کو ایک منظم ادارہ بنانے پر ڈی جی ریسکیو اور ان کی ٹیم کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے گزشتہ دو سالوں میں صوبے کی ترقی اور خوشحالی کے لئے نظر آنے والے اقدامات کئے ہیں، اگلے تین سال میں بھی ڈیلیور کرکے دکھائےں گے۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ نے ریسکیو آلات اورمارچ پاس کا معائنہ بھی کیا اور تربیتی مقابلوں میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے کیڈٹس میں انعامات تقسیم کئے۔ وزیراعلیٰ کو اس موقع پرکیڈٹس کی فلیگ پارٹی کی طرف سے سلامی پیش کی گئی۔

وزیراعلیٰ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاس آؤٹ ہونے والے کیڈٹس کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ضم شدہ اضلاع میں ریسکیو خدمات کی انجام دہی کے لئے قبائلی علاقوں سے جوانوں کا انتخاب کیا گیا ہے جو صوبائی حکومت کی طرف سے قبائلی عوام سے کئے گئے ایک اور وعدے کی تکمیل ہے ۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سابقہ فاٹا کا صوبے میں انضمام کوئی آسان ہدف نہیں تھا ۔ موجودہ حکومت نے تمام سٹیک ہولڈرز کے تعاون سے اس مشکل ہدف کو احسن انداز میں مکمل کیا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ خصوصی طور پر وزیراعظم پاکستان عمران خان کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے انضمام کے عمل میں خصوصی دلچسپی لی اورہر طرح کا تعاون فراہم کیا۔

محمود خان نے واضح کیا کہ 28ہزار لیویز اور خاصہ داروں کو پولیس میں ضم کیا گیا۔ ضم شدہ علاقوں میں لینڈ سیٹلمنٹ کے لئے الگ قانون بنایا گیا ، قبائلی اضلاع کے لئے علیٰحدہ منرل ایکٹ منظور کیا گیا، اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا گیا۔

یہ تمام اور اسی طرح کے دیگر اقدامات اتنے آسان نہیں تھے تاہم صوبائی حکومت قبائلی اضلاع کی تعمیر اور ترقی کے لئے پر عزم تھی اور ان تمام اہداف کا حصول یقینی بنایا۔ صحت انصاف کارڈ کو ضم شدہ اضلاع کی سو فیصد آبادی تک توسیع دی جاچکی ہے جبکہ جنوری سے پورے صوبے میں عوام کو علاج معالجے کی مفت سہولیات میسر ہوں گی۔