لینڈ مائنز کا صفایا – ذمداری کس کی ؟

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

سی جے رضیہ محسود

وزیرستان میں بےشمار معدنی ذخائر موجود ہیں مگر بدقسمتی سے یہ علاقہ ہمیشہ ہی حکومت کی نظروں سے اوجھل اور زندگی کے بنیادی ضروریات سے محروم رہا ہے۔

وزیرستان کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو بے شمار کردار نظر آئیں گے جنہوں نے پاکستان کے لئے بے پناہ قربانیاں دیں، انگریزوں نے بھی اپنی کتابوں میں ان کی مہمان نوازی بہادری وفا اور خلوص کا ذکر کیا ہے لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا کہ پاکستان میں دہشتگردی اور دوسرے عناصر کا وقتی طور پر راج رہا اور حکومت کو آپریشن کرنا پڑا جس کے نتیجے میں لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے ہجرت کی اور اپنا سازوسامان مال مویشی سب کچھ چھوڑ کر پاکستان کے محفوظ مقامات ٹانک ڈیرہ اسماعیل خان پشاور بنوں کراچی منتقل ہوئے۔

ہجرت کے دوران لوگوں کو جن جن مشکلات سے گزرنا پڑا وہ ناقابلِ بیان ہیں،  گھربار و سازوسامان چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں بےسروسامانی کی حالت میں جانا جہاں ان کو کرائے کے مکانات کا نہ ملنا اور وہاں کے لوگوں کا یہ کہنا کہ یہ دہشت گرد ہیں ہم ان کو پناہ نہیں دیتے، ایک ہی گھر میں چھ مختلف خاندانوں کو انتہائی مشکل کے ساتھ رہنا پڑا اور جن کو حکومت نے ایمرجنسی کی بنیاد پر ٹینٹ فراہم کیے وہاں بھی بے پناہ مشکلات تھیں۔

راستے میں بھی جہاں ان کے شناختی کارڈ چیک کئے جاتے تو انہیں مشکوک سمجھا جاتا اور دہشتگردی کا ٹھپہ لگایا جاتا، بچوں کو سکولوں میں داخل کرتے وقت ہزار جتن کرائے جاتے پھر کہیں  جاکر داخلہ دیا جاتا وغیرہ وغیرہ۔

ان سب حالات سے لوگ حکومت سے کافی دلبرداشتہ ہوئے لیکن جب حکومت نے لوگوں کو واپس وطن بھیجا تو لوگ خوشی خوشی اپنے علاقوں کو لوٹے، وطن واپس آکر انہیں لوٹے ہوئے گھر ٹوٹے ہوئے گھر اور  سازوسامان ملا مگر پھر بھی لوگوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی مدد آپ کے تحت گھروں کو بنانا شروع کیا۔

حکومت کی طرف سے انہیں پیسے دیے گئے تین چار سال تک یہ سلسلہ چلتا رہا، آرمی کی طرف سے بنائے گئے ہسپتال سکول ملے لوگ جنہیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے کہ اب ہمارے لئے وزیرستان میں کوئی مشکلات نہیں ہوں گی مگر یہ خوشی زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی کیونکہ ان سکولوں اور ہسپتالوں میں ابھی تک سٹاف نہیں اور صرف عمارات لوگوں کو تعلیم اور صحت کی سہولیات مہیا نہیں کر سکتیں۔

تاہم سب سے بڑی آفت جو ان لوگوں کے گلے پڑی وہ ہے لینڈ مائنز جن کی وجہ سے وزیرستان کے بچے معذور ہوئے  مالی نقصان بھی ہوا اور مویشی بھی ان لینڈ مائنز کا شکار بنے۔

لینڈمائنز کے اب تک وزیرستان میں 138 واقعات ہوئے ہیں جب لوگوں کی برداشت کی قوت ختم ہونے لگی تو لوگ آواز اٹھانا شروع ہوئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی ہونے لگی، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ لینڈ مائنز کیسے صاف کیے جائیں  اور ان سے کیسے بچ سکیں؟

لینڈ مائنز کا صفایا آرمی اور حکومت کی ذمہ داری ہے،حکومت کو چاہیے کہ اس مقصد کے لیے ٹیمیں مقرر کریں اور لوگوں میں لینڈ مائنز سے متعلق  آگاہی اور شعور پیدا  کرے۔

لینڈ مائنز کی صفائی کا عمل تیزی سے جاری رکھا جائے اور جن جگہوں پر صفائی کا عمل نہیں ہوا ان علاقوں کو ریڈ زون قرار دیا جائے  اور لوگوں کے وہاں جانے پر پابندی عائد کی جائے۔

اس کے علاوہ جو بچے و عورتیں ینڈ مائنز دھماکوں کے نتیجے میں معذور ہو چکی ہیں ان کی معذوری کو ختم تو نہیں کیا جا سکتا مگر ان کے لیے حکومت اقدامات تو کرسکتی ہے، مصنوعی ہاتھ پاؤں وغیرہ مہیا کرسکتی ہے اور ان کیلئے ملازمتوں یا روزگار کے موقع پیدا کرسکتی ہے۔

ان اقدامات سے ہمارے لوگوں کو حکومت سے جو گلے شکوے ہیں وہ بھی کم ہو جائیں گے اور امن کی راہ مزید ہموار ہو جائے گی، پاکستان کی سلامتی کو خطرہ نہیں ہوگا اور یہ لوگ بیرونی قوتوں کے آلہ کار نہیں بنیں گے۔