نادرا دفاتر پورے شمالی وزیرستان کے عوام کی پہنچ سے دور ہیں

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

وزیرستان سٹوڈنٹس سوسائٹی نے شمالی وزیرستان کی تحصیل ہیڈ کوارٹر میرانشاہ میں ایک اور نادرا دفتر کے قیام اور نادرا موبائل یونٹ کی فراہمی کا مطالبہ کر دیا۔

بنوں پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرستان سٹوڈنٹس سوسائٹی کے چیف ایگزیکٹو فصیح اللہ، صدر جلال، فہیم اللہ و دیگر نے کہا کہ شمالی وزیرستان گیارہ تحصیلوں مشتمل ایک وسیع رقبے پر پھیلا ہوا قبائلی ضلع ہے، دوسری طرف علاقہ پہاڑی اور دشوار گزار بھی ہے تاہم نادرا کے دفاتر میرعلی اور رزمک تحصیلوں میں قائم کئے گئے ہیں۔

سٹوڈنٹ سوسائٹی کے رہنماؤں کے مطابق شمالی وزیرستان میں ضرب عضب سے پہلے نادرا کا آفس میرانشاہ میں قائم تھا جہاں تک بویہ،غلام خان اور دتہ خیل کے عوام آسانی سے پہنچ سکتے تھے لیکن اب نادرا دفاتر پورے شمالی وزیرستان کے عوام کی پہنچ سے دور ہیں اور دور دراز کے علاقوں کے لوگوں خصوصاً خواتین کوشدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔

انہوں نے کہا کہ شناختی کارڈ ہر پاکستانی کی بنیادی ضرورت ہے اور اس کے بغیر وہ آمد رفت کر سکتے ہیں اور نہ کوئی اور ضروریات پوری کر سکتے ہیں، اس سلسلے میں ڈی سی نارتھ اور کمشنر کو درخواستیں دی گئیں لیکن ابھی تک شنوائی نہیں ہو سکی ہے۔

سٹوڈنٹ سوسائٹی کے قائدین نے مطالبہ کیا کہ شمالی وزیرستان کے مرکزی مقام میرانشاہ میں نادرا کے ایک اور دفتر کے علاوہ تحصیل کی سطح پر دفاتر کھولے اور دور دراز کے علاقوں میں عوام خصوصاٍ خواتین کے شناختی کارڈ بنوانے کے لئے نادرا موبائل یونٹ بھیجے جائیں۔