ہم تو واپس آگئے لیکن گاڑیاں افغانستان میں رہ گئیں

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin
شمالی وزیرستان کے متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پاکستان افغانستان میں پھنسی ان کی گاڑیوں کی واپسی کیلئے راہ ہموار کرے جو وہاں کھڑی کھڑی زنگ آلود ہو رہی ہیں۔
 
میرانشاہ پریس کلب کے سامنے ڈھول کی تاپ پر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے شمالی وزیرستان کے قبائل خذرخیل، منظرخیل، سیدگی، دیر دونی اور تبی ٹول خیل کے مشران نے دھمکی دی کہ 5 اگست تک ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو مین شاہراہ کو مکمل طور پر بند کردیں گے۔
 
ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی تنظیم، سیاسی جماعت یا حکومت کیخلاف نہیں نکلے بلکہ ان کا مطالبہ ہے کہ افغانستان سے ان کی گاڑیاں واپس لانے کا بندوبست کیا جائے کیونکہ بدامنی کے دور میں محض سر چھپانے کیلئے وہ افغانستان نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔
 
مشران نے کہا کہ علاقے میں بحالی امن کے بعد وہ تو واپس ہوئے لیکن ان کی گاڑیوں کو سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں دی گئی حالانکہ ان کی گاڑیاں رجسٹرڈ بھی ہیں۔
 
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اعلیٰ حکام سے بار بار گزارش کے باوجود اس سلسلے میں تاحال کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ مظاہرین نے واضح کیا کہ 5 اگست کو احتجاج کے دوران کسی بھی قسم کے نقصان کی ساری ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔