ضم اضلاع پولیس کے 4 ہزار اہلکاروں کو پاک فوج تربیت دے گی

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

قبائلی اضلاع کی تاریخ میں پہلی بار لیوی اور خاصہ دار فورس کو تریبت دی جائے گی، خیبر پختونخوا پولیس میں حال ہی میں ضم ہونے والے 4 ہزار اہلکاروں کو پاک ٓارمی کے زیر نگرانی تربیت دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

ڈایکٹریریٹ آف پولیس ٹریننگ خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری کردہ ایک مراسلے کے مطابق 3 ماہ کے تریبتی سیشن میں پاک فوج کے انسٹرکٹرز ضم اضلاع کی پولیس کے جوانوں کو شوٹنگ، سلوٹ، ڈرل کی خصوصی مشقوں کے ساتھ ساتھ جسمانی اور تکنیکی تریبت بھی دیں گے۔

ضلع خیبر کے 450، مہمند 250، باجوڑ 250، جنوبی وزیرستان 600، سابقہ ایف آر پشاور 50، اورکزئی 400، کرم 400، کوہاٹ 200، بنوں 200 اور شمالی وزیرستان کے 900 لیوی اور خاصہ دار فورس کے اہلکاروں کو تریبت دی جائے گی۔

پاک فوج کے ساتھ ساتھ دوران تریبت خیبر پختونخوا پولیس کے ماہر ٹرینرز بھی قبائلی پولیس کو بنیادی تربیت فراہم کرنے میں معاونت دیں گے۔

خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے 7 انسٹرکٹرز جوانوں کو بنیادی پولیسنگ، کے پی پولیس ایکٹ، شعبہ تفتیش سمیت بیسک پولیسنگ کے بارے میں سیشنز لیں گے۔

پاک فوج کے زیر اہتمام ہونے والے تربیتی پروگرام میں فرنٹیئر کور کے افسران کی خدمات بھی لی جائیں گی۔

قبائلی اضلاع کے پہلے بیچ کی تربیت مکمل ہونے کے بعد مرحلہ وار دیگر اہلکاروں کو پاک فوج کے زیر نگرانی ٹریننگ دی جائے گی۔

دوسری جانب ایف ٓآر پشاور سے بھی 200 کے قریب اہلکاروں کو تربیت کے لئے بلوایا گیا ہے جو کہ شمشتو، علی خیل، زیڑہ، بوڑہ ایکسچینج اور بی ایچ یو پستنی سمیت نواحی علاقوں میں تعینات ہیں۔

دو ماہ قبل ضم اضلاع کے 9 ہزار کے قریب لیوی اور خاصہ دار فورس کے اہلکاروں کو کے پی پولیس میں باقاعدہ طور پر ضم کر دیا گیا تھا۔

لیویز اور خاصہ داروں کو پولیس میں ضم کرنے سمری محکمہ داخلہ کو بھجوائی گئی تھی جبکہ کابینہ کی منظوری کے بعد ضم شدہ اضلاع کے تمام لیوی اور خاصہ دار فورس کے جوانوں کو اب باقاعدہ طور پر خیبر پختونخوا پولیس کا حصہ بنا دیا گیا ہے اور پولیس ایکٹ کے مطابق ان کی سنیارٹی بھی پولیس جوانوں اور افسران کے مطابق مہیا کر دی گئی ہے۔

پاک فوج کے زیرنگرانی تربیت کا مقصد اب ان کو خیبر پختونخوا کے پولیسنگ نظام سے مکمل طور پر آگاہ کرنا اور ٹریننگ دینا ہے۔

چونکہ فاٹا انضمام سے قبل قبائلی علاقہ جات میں پولیسنگ نظام نہیں تھا اور لیویز و خاصہ دار بغیر کسی تربیت یا کورس و ٹریننگز کے اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔

اب تمام ضم اضلاع میں پولیسنگ نظام مکمل طور پر رائج کر دیا گیا ہے لہذا مکمل تربیت دینے کے بعد اب وہاں بھی یہ اہلکار پولیسنگ نظام سے مکمل طور پر واقف ہو کر اپنے فرائض بہتر انداز و طرہقے سے انجام دینے کے قابل ہوں گے۔