جنوبی وزیرستان : قیمتی درختوں کی بیدردی سے کٹائی جاری

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

جنوبی وزیرستان میں درختوں کی بے دریغ کٹائی جاری ہے، جس کے خلاف مقامی لوگوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

علاقہ مکینوں کے مطابق جنگلات کی قیمتی لکڑی براستہ انگور اڈہ افغانستان سمگل ہو رہی ہے اور درختوں کی اس بے دریغ کٹائی اور سمگلنگ کو بااثر افراد کی حمایت حاصل ہے، جس کی وجہ سے اس کی روک تھام نہیں کی جا رہی۔ روزانہ کی بنیاد پر لکڑیوں اور کوئلے سے بھرے درجنوں ٹرک افغانستان جاتے ہیں۔

محکمہ جنگلات اور متعلقہ ادارے جنگلات کی کٹائی اور سمگلنگ پر قابو پانے میں ناکام ہیں۔ لکڑی اور کوئلہ افغانستان سمگل ہونے کیوجہ سے وانا کی منڈیوں میں لکڑی ناپید ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ قیمتی جنگلات کی کٹائی کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔

محکمہ جنگلات کے ملازمین نے کہا کہ ہم نے کئی بار لکڑیوں کی سمگلنگ ناکام بنانے کوششیں کیں مگر بااثر حلقہ آڑے آ جاتا ہے۔ لکڑیوں اور کوئلے کی سمگلنگ کا پورا مافیا ہے اور بدقسمتی سے یہ مافیا اتنا طاقتور ہے کہ کوئی بھی اس پہ ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔

وانا سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے رہنما عامر خان سالار نے کہا ہے کہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ایک طرف عمران خان درخت لگانے کی ہدایت کر رہے ہیں اور دوسری جانب صحتمند تناور درختوں کی اعلٰی پیمانے پہ کٹائی جاری ہے۔ حکومت ان مافیاز کے خلاف سخت اقدامات کرے اور انہیں قرار واقعی سزائیں دے۔