یوم شہداء، قیام امن کےلئے پولیس کی لازوال قربانیاں

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے آج 4 اگست کو یوم شہداء منایا جا رہا ہے۔ شرپسندوں کے خلاف اس جنگ میں خیبرپختونخوا پولیس کے ایک ہزار726 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا جن میں 2 ایڈیشنل آئی جی پیز بھی شامل ہیں۔
 
دن کے آغاز پر پشاور سمیت خیبرپختونخوا بھر کے پولیس لائنز اور دیگر مقامات پر شہداء کے ایصال و ثواب کےلئے قرآن خوانی کی گئی جس کے بعد شہداء کے درجات کی بلندی اور ملک و قوم کی سلامتی کے لئے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔
 
واضح رہے کہ جب خیبر پختونخوا بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کی لپیٹ میں تھا تو اس دوران پولیس کے بہادر افسران اور جوانوں نے سیکورٹی فورسز کے شانہ بشانہ ملک دشمن عناصر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اوردشمن کے بارود کے سامنے اپنے سینے پیش کر تے ہوئے شرپسندوں کے بیشتر منصوبوں کو خاک میں ملایا۔
 
ملک دشمنوں کے خلاف لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے ان ہیروز کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے آج یوم شہداء منایا جا رہا ہے اس موقع پرملک کے دیگر حصوں کی طرح خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں سرکاری و نجی اداروں اور تاجر برادری کی جانب سے خصوصی پروگرامات کا انعقاد کیا گیا ہے۔
 
اس سلسلے میں آج پشاور کے مختلف بازاروں سے ریلیاں نکالی جائے گی جبکہ  یوم شہداء کی مرکزی تقریب پشاور کے نجی ہوٹل میں رات 8 بجے منعقد ہوگی جس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان، انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ڈاکٹر محمد نعیم خان اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ افسران سمیت شہداء کے لواحقین کثیر تعداد میں شرکت کریں گے۔
 
یوم شہداء کے موقع پر ایس ایس پی آپریشنز پشاور ظہور بابر آفریدی نے 4 اگست 2010 کو خودکش دھماکہ میں شہید ہونے والے کمانڈنٹ فرنٹیئر کانسٹیبلری صفوت غیورت کی قبر پر حاضری دی، اس موقع پر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہید صفوت غیور کو سلامی دی جس کے بعد ایس ایس پی آپریشنز ظہور بابر آفریدی نے شہید کے قبر پر پھول چڑھائے۔
 
اس موقع پر ایس ایس پی آپریشنز کا کہنا تھا کہ شہید صفوت غیور بہادری اور شجاعت کی عظیم مثال ہیں جن کی خدمات اور قربانی پولیس فورس کے لئے مشعل راہ ہیں، آج کا دن شہیدوں کی قربانیوں کو یاد کرنا اور ان کے مشن کو آگے لے جانے کے تجدید کا دن ہے، شہید صفوت غیور کے کارناموں اور خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
 
شہید صفوت غیور کی قبر پر حاضری کے بعد چیف کیپٹل پولیس آفیسر پشاور کریم خان نے ایس ایس پی آپریشنز ظہور بابر آفریدی، ایس پی ہیڈکوارٹرز عبدالسلام خالد، ایس پی سیکیورٹی عنایت علی اور پولیس کے چاق و چوبند دستے کے ہمراہ ملک سعد شہید پولیس لائنز میں یادگار شہداء پہ سلامی دی اور پھول چڑھائے۔ اس موقع پر پولیس اور ان کے خاندان کی بقاء اور حفاظت کےلیے دعا بھی کی۔
 
یوم شہداء کے سلسلہ میں پشاور سمیت صوبہ کے مختلف مقامات پر بلڈ ڈونیشن کیمپ بھی لگائے گئے جہاں پولیس افسران اور جوانوں سمیت عام شہریوں نے بھی کثیر تعداد میں خون کے عطیات جمع کئے۔
 
دوسری جانب پولیس ریکارڈ کے مطابق خیبرپختونخوامیں دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ کے دوران 1999سے لیکر اب تک ایک ہزار726پولیس افسران و اہلکار شہید ہوچکے ہیں جن میں 2 ایڈیشنل آئی جی پیز، 2 ڈی آئی جیز، ایک اے ایس پی، دو ایس پیز، 19 ڈی ایس پیز، 31انسپکٹرز، 137 ایس آئیز، 130اے ایس آئیز، 161 ہیڈکانسٹیبلز اور1240 ایف سی اہلکار شہید ہوئے ہیں۔
 
ریکارڈکے مطابق پولیس اہلکاروں کی سب سے زیادہ صوبائی دارالحکومت پشاورمیں یعنی 482 شہادتیں ہوئیں، چارسدہ میں 94، نوشہرہ میں 38، مردان میں 95، صوابی میں 44، کوہاٹ میں 95، ہنگومیں 74، کرک میں 11، ایبٹ آباد میں 12،ہری پور میں 10، مانسہرہ میں 30، بٹگرام اور کوہستان میں سات سات، تورغرمیں 10، بنوں میں 194، لکی مروت میں 33، ڈی آئی خان میں 164، کرک میں 26، سوات میں 128، شانگلہ میں 35، بونیرمیں 39، دیرلوئرمیں 48،دیراپرمیں 41اورچترال میں 9پولیس اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔
 
اسی طرح دہشتگردی کے حوالے سے خیبرپختونخوا پر سال2009 سب سے بھاری رہا جس میں 208 پولیس اہلکار شہید ہوئے، 2008ء میں 172، 2010میں 107،2011میں 154، 2012ء میں 106، 2013میں 134اور2014میں 111پولیس اہلکاردہشت گردی کانشانہ بنے۔
 
2016ء کے بعدد ہشت گردی کے واقعات میں واضح کمی آئی اور یوں 2017ء میں 36 اور 2018ء میں 30 پولیس اہلکاروں نے جان کے نذرانے پیش کئے جبکہ رواں سال25جولائی تک پولیس اہلکاروں کی18شہادتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔