افغانستان کے ساتھ غیر رسمی تجارت کی بندش کے خلاف دھرنا شروع

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

قبائلی ضلع خیبر کے لنڈی کوتل کے علاقے ذخہ خیل کے سینکڑوں لوگوں نے افغانستان کے ساتھ چھوٹے راستے بند ہونے کے خلاف احتجاجی دھرنا شروع کیا ہے۔

ولے کے مقام پر عمر پوسٹ کے سامنے دھرنا میں بازار ذخہ خیل کے سینکڑوں مزدور، گوداموں کے مالکان، ہوٹلوں کے مالکان، چوکیدار، پنکچر لگانے والے، دیہاڑی دار، ٹرانسپورٹرز اور مقامی لوگ شامل ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ افغانستان سے براستہ بازار ذخہ خیل مال لانے کو کورونا وائرس کی وباء کی غرض سے 14 دنوں کے لئے بند کرنے کا کہا گیا تھا لیکن اب 6 ماہ ہوگئے کہ مال لانے اور لے جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے جس کی وجہ سے مقامی لوگ اور اس کاروبار سے وابستہ ہزاروں خاندان فاقوں پر مجبور ہو ریے ہیں اس لئے مجوزہ پابندی اٹھا کر مال لانے اور لے جانے پر پابندی ختم کی جائے تاکہ لوگ اپنی محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں کے لئے رزق کما سکے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ملک خداداد پاکستان کے لئے ان کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اس لئے حکومت بازار ذخہ خیل کے راستے افغانستان سے مال لانے پر پابندی اٹھائیں تاکہ یہاں غربت،بے روزگاری اور پسماندگی کے مسائل پر قابو پایا جا سکے۔

مظاہرین نے مطالبہ تسلیم ہونے تک احتجاجی دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے جبکہ زرایع کا کہنا ہے کہ مظاہرین کی جانب سے منتخب افراد کو بھی اس حوالے سے اعتماد میں لیکر احتجاج میں شریک کیا جا سکتا ہے