ضم شدہ اضلاع کی ترقیاتی ترجیحات پر کی گئی تحقیق کی رونمائی

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

محکمہ بلدیات، انتخابات اور دیہی ترقی خیبر پختونخوا کی جانب سے ضم شدہ اضلاع کے عوام کی ترقیاتی عمل کے حوالے سے آراء اور ان کی ضروریات و ترجیحات پر مبنی تحقیقی مطالعے کا اجراء کر دیا۔

تحقیقی مطالعے کا اجراء اسپیشل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ معتصم باللہ اور یو ایس ایڈ کے ڈپٹی مشن ڈائریکٹر مائیکل نئیر باس نے آج پرل کانٹی نینٹل ہوٹل پشاور میں منعقدہ ایک تقریب میں کیا جس میں خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کی 702 ویلیج اور نیبرہڈ کونسلز کی ترقیاتی ترجیحات اور ضروریات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

تقریب کے مہمان خصوصی جناب معتصم باللہ نے کہا کہ ”ضم شدہ اضلاع کی ترقیاتی ضروریات صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں محکمہ بلدیات اور محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی کاوشیں اور تمام ترقیاتی شراکت داروں بالخصوص یو ایس ایڈ ) (USAID اوریو این ڈی پی)(UNDP کی معاونت قابل ستائش ہیں۔”“Profiling of Socioeconomic Development Status and Development of Village Development Plans in the Village and Neighborhood Councils of the Merged Areas in Khyber Pakhtunkhwa” کے عنوان سے  کی گئی اس تحقیق میں گاؤں کی سطح پر سماجی و معاشی ترقی کی سطح کا جائزہ لیا گیا ہے، اور ان علاقوں میں ترقیاتی منصوبہ بندی کے لئے ہدایات بھی فراہم کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج اس دستاویز کا اجراء ضم شدہ اضلاع میں حکومت اور ترقیاتی شراکت داروں کے ان علاقوں کی ترقی کیلئے کیے گئے اقدامات کا واضح ثبوت ہے، اس ضمن میں لوکل گورنمنٹ ریفارمز یونٹ (LGRU)  اور آئی ایم سائنسز (Institute of Management Sciences) کی تکنیکی معاونت بھی قابل ذکر ہے جس کے ذریعے ضم شدہ اضلاع کی 702 ویلج اور نیبرہڈ کونسلز کی سماجی و معاشی پروفائیلنگ اور ترقیاتی منصوبہ بندی کا عمل مکمل ہوا، یہ پروفائلز اور ترقیاتی منصوبے حکومت خیبر پختونخوا اور ترقیاتی شراکت داروں کو  شواہد پر  قائم منصوبہ بندی میں مدد کریں گے۔

 

مائیکل نیئر باس نے کہا کہ اس تحقیق کے نتائج منتخب نمائندوں اور مقامی حکومتوں کو ضم شدہ اضلاع کیلئے مختص ترقیاتی فنڈز کے مؤثر استعمال میں مدد دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یو ایس ایڈ پرعزم ہے کہ حکومت خیبر پختونخوا کے ساتھ مل کر ضم شدہ اضلاع کو ترقیاتی لحاظ سے صوبے کے دوسرے اضلاع کے شانہ بشانہ لا سکے، اس تحقیق کے نتائج ضم شدہ اضلاع کے لوگوں سے تفصیلی مشاورت کا نتیجہ ہیں۔

سکائی کرسچنسن، مرجڈ ایریاز گورننس پراجیکٹ  (MAGP-UNDP) کے چیف ٹیکنیکل اسپیشلسٹ نے اس موقع پر کہا کہ یہ تحقیق  ضم شدہ اضلاع کے لوگوں کی آراء اور ترجیحات پر مبنی ہے، اس  کے پیش نظر یہی مقصد تھا اور ہے کہ عوامی بھلائی  سے متعلق عوام اپنی ضروریات اور ترجیحات کی نشاندہی کر سکیں جن کو ان معاشرتی اور معاشی منصوبوں میں شامل کیا گیا ہے۔