جنوبی وزیرستان کی مویشی منڈیاں جانوروں کی بھیڑ، حکومت اور لائیو سٹاک محکمہ پہلی بار متحرک

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

وزرستان: بکرعید قریب اتے ہی جنوبی وزیرستان کی مویشی منڈیاں جانوروں کی بھیڑ سے بھر جاتی ہیں. پچھلے 72 سال سے مویشی منڈی کیلئے حکومت کی جانب سے کوئی خاص انتظامات نہیں تھے،جبکہ قبائلی ایجنسیوں کا صوبے میں ضم ہونے کے بعد حکومت اور لائیو سٹاک کا محکمہ پہلی بار متحرک ہوگیا ہے۔

محکمہ لائیوسٹاک نے وانا میں کانگو وائرس کے حوالے سے شہریوں اور بیوپاریوں میں آگاہی مہم کا آغاز کردیا ہے۔

محکمہ لائیوسٹاک کی جانب سے کانگو وائرس کے تدارک کیلئے سپرے اور مویشی کے رہائشی جگہوں پر صفائی اور سائے کے انتظامات کئے گئے ہیں۔جبکہ ڈاکٹر شعیب محسود کا کہنا ہے،کہ اب تک 11 ہزار کے قریب جانوروں کیلئے سپرے اور صفائی کے انتظامات ہوچکے ہیں،جس سے نہ صرف جانور محفوظ ہوں گے،بلکہ انسانی جانوں کو کانگو وائرس سے ممکن حد تک محفوظ کیا جاسکتا ہے۔

جبکہ دوسری جانب بیوپاریوں اور دیگر لوگوں کا کہنا ہے،کہ حکومت انتظامات کے محض دعوے کر ہی ہے،عملی طور پر مویشی منڈی کیلئے خاطرخواہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔