جماعت اسلامی کرم نے یوم تاسیس بھرپور طریقے سے منائی

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

جماعت اسلامی کرم  نے جامع مسجد جنداڑی لوئر کرم میں یوم تاسیس بھرپور طریقے سے منائی گئی۔جس میں جماعت اسلامی کرم کے ارکان وکارکنان نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

تقریب سے امیر جماعت اسلامی کرم حکمت خان حکمتیار، سابق امیر محمد الیاس بنگش، مولانا محمد نبی اور ڈپٹی سیکرٹری عمران مقبل نے خطبات کیے۔

ذمہ داران نے جماعت اسلامی کی بنیاد پر تفصیلی روشنی ڈالی انہوں کہا کہ مولانا مودودیؒ نے جب 26 اگست 1941 میں جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی تو اس وقت ان کے ساتھ صرف 75 لوگ تھے اور ٹوٹل سرمایہ 72 روپے دو آنے تھا۔ لیکن یہ تحریک آج ایک تناور درخت اور عالم گیر شکل اختیار کرچکا ہے۔ اس وقت صرف پاکستان میں جماعت اسلامی کے پچاس ہزار ارکان اور لاکھوں کارکنان ہیں۔

ذمہ داران نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی پاکستان کی سب سے بڑی جمہوری پارٹی ہے۔ جہاں ایک کارکن اور امیر پاکستان ایک برابر ہے۔اس پارٹی میں باقی پارٹیوں کی طرح خاندانی سیاست،موروثیت، قوم پرستی، امریت اور سرمایہ دارنہ نظام نہیں بلکہ جماعت اسلامی عصبیت سے مکمل صاف اور شفاف ہے۔یہاں ہر کارکن کو رائے اور تجویز دینے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا نصب العین رضائے الہی اور اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنا ہے جسکےلیے جماعت اسلامی روز اول سے جدوجہد کررہی ہے۔ اج اگر ہم پاکستان میں دیکھیں تو ہر مشکل گھڑی میں جماعت اسلامی صف اول میں موجود ہوتی ہے خواہ وہ مسلہ کشمیر ہو، مہنگائی ہو، ختم نبوتﷺ کی دفاع ہو، ظلم و جبر، ہو، کرپشن ہو قدرتی افات ہو۔ ہر مسلے پر انہوں عملی ایکشن لیا ہے۔

جماعت اسلامی پاکستان میں مختلف ناموں پر مزدوروں، ڈاکٹروں، نوجوانوں، خواتین، طلباء، مدرسوں، علماء کرام، اساتذہ کرام، بچوں، کسانوں، فلاحی اداروں کا ایک وسیع نیٹورک رکھتی ہیں۔ جس انداز میں جماعت اسلامی 22 کروڑ عوام کی ترجمابی کررہے ہیں اسکی کوئی مثال نہیں ملتی۔ پارلیمنٹ اور سینٹ میں ہم نے ہر فارم پر غریب عوام اور ہر ظلم کے خلاف اواز اٹھائی ہے۔

مشران شرکاء سے کہا کہ اج مولانا مودودیؒ کے فکر سے دنیا کے کروڑوں لوگ وابستہ ہیں۔ ترکی، مصر، بنگلا دیش، انڈونشیا، سوڈان، ملائشیا اور خلیجی ممالک میں فکر سید مودودیؒ کے افراد مذکورہ ممالک کے ایوانوں میں بھیٹے ہیں اور حکومتوں کے اعلی ذمہ داریوں پر فائز ہیں۔ اخر میں مشران نے تقریب میں شریک لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کی سلامیت اور امت مسلمہ کی حفظ و امان کے لیے دعائیں کی گئی۔