حکومت پاکستان نے "غازی فورس” پر پابندی عائد کر دی

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

حکومت پاکستان نے ایک اور تنظیم پر پابندی لگا دی۔ وزارت داخلہ نے غازی فورس نامی تنظیم پر پابندی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔

یہ تنظیم اسلام آباد میں لال مسجد آپریشن میں مسجد کے نائب خطیب عبدالرشید غازی کی ہلاکت کے بعد اُن کے نام پر تشکیل دی گئی تھی، تاہم عبدالرشید غازی کے بعد مولانا عبدالعزیز کہتے ہیں کہ ان کا اس جماعت سے کوئی تعلق نہیں، نہ انہوں نے بنائی ہے، ہوسکتا ہے عبدالرشید غازی کے کسی چاہنے والی نے بنائی ہو۔

جاری کئے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق غازی فورس پر انسداد دہشتگردی ایکٹ کے سیکشن 11 اے، بی کے تحت پابندی لگائی ہے۔ نوٹیفکیشن کی کاپی ڈی جی نیکٹا، وزارت خارجہ، قومی سلامتی کونسل سمیت تمام محکموں کو ارسال کر دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ اس اضافے کے بعد وزارت داخلہ کی پابندی کی فہرست میں شامل تنظیموں اور گروپوں کی تعداد 78 ہوگئی ہے۔ غازی فورس رواں سال پابندی کی فہرست میں شامل ہونیوالی پانچویں تنظیم ہے۔

کالعدم تنظیموں کی فہرست بنانے کا عمل 14 اگست 2001ء میں اس وقت شروع ہوا تھا جب لشکر جھنگوی اور سپاہ محمد پاکستان کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔ بعد ازاں 14 جنوری 2002ء کو حکومت نے جیش محمد، لشکر طیبہ، سپاہ صحابہ پاکستان، تحریک اسلامی اور تحریک نفاذ شریعت محمدی پر پابندی عائد کر دی تھی۔

یاد رہے کہ 21 اگست کو پاکستان نے داعش، القاعدہ، طالبان سمیت دیگر تنظیموں کے 88 سے زائد دہشت گردوں پر سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ وزارت خارجہ کے جاری کردہ نوٹی فکیشن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 21 قراردادوں کے تحت دہشت گردوں پر عائد کردہ پابندیوں میں اثاثے منجمد کرنا، سفری اور اسلحے کی خرید و فروخت پر پابندی شامل ہے۔

پابندیوں کے دو علیحدہ نوٹیفکیشنز جاری کیے گئے تھے، جن میں کالعدم تنظیموں، دہشت گرد عناصر، افراد کے تمام اثاثے، کھاتے یا مالیاتی ذرائع بغیر کسی پیشگی نوٹس کے فی الفور منجمد کرنے کا حکم دیا گیا۔