زمین ملکیتی تنازعہ پر پاک فوج اور سول انتظامیہ کی بروقت مداخلت

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

وزیر اور محسود قبائل کے مابین زمین ملکیتی تنازعہ پاک فوج اور سول انتظامیہ کی بروقت مداخلت، دونوں فریقین سے مورچے خالی کرالئیے گیے.

جنوبی وزیرستان کے محسود قبائل اور شمالی وزیرستان کے وزیر قبائل کے مابین ایک عرصہ سے نژمیرے اور رزمک کا درمیانی علاقے پر تنازعہ چلا آرہا ہے تنازعے کی بنیادی وجہ آپریشن راہ نجات اور ضرب عضب کے دوران محسود قبائل نے اپنے گھر بار چھوڑ کر اندرون ملک نکل مکانی کی تھی.

اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شمالی وزیرستان کے وزیر قبائل نے محسود قبائل کے رہائشی مکانات، باغات اور زرعی اور قیمتی درختوں کے جنگل پر قبضہ کرکے محسود قبائل کو علاقے سے بے دخل کردیاگیا جس کے بعد دونوں فریقین کے مابین متعدد بار خونریز جھڑپیں ہوئیں جسمیں ابتک متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔

زمین تنازعے پر گذشتہ دن ایک بار پھر دونوں فریقین ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زن ہوگئے تھے تاہم پاک فوج اور سول انتظامیہ کی بروقت مداخلت سے متوقع خونریز تصادم کا خطرہ ٹل گیا، اس سلسلے میں دونوں اقوام کے مابین بروز منگل ایک بار پھر سکاوٹس کیمپ رزمک میں مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا۔

مذاکرات میں پاک آرمی کے کرنل عثمان، اسسٹنٹ کمشنر لدھا اللہ نور شیرانی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فہید اللہ اور محسود قبائل کے مشران کے علاوہ شمالی وزیرستان کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر دولت خان،کرنل ابوبکر جنجوعہ، کرنل منصور، تحصیل دار یعقوب سمیت وزیر قبائل کے عمائدین بھی شامل تھے۔

دونوں اطراف کے سول انتظامیہ اور مشران نے مصالحتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق کرتے ہوئے دونوں فریقین سے چار چار مشران پر مشتمل مذاکراتی جرگہ تشکیل دے دیا جو فریقین کے مابین مسلے کے حل کیلئے دونوں متحارب قبائل سے مذاکرات کرینگے۔