خیبرپختونخوا: آٹے کی فراہمی کے لئے 3 ارب روپے کی سبسڈی منظور

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

خیبرپختونخوا کی صوبائی کابینہ نے گندم کی درآمد اور عوام کو سستے نرخ پر آٹے کی فراہمی کے لئے تقریبا 3 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کرنے کی منظوری دے دی۔ مشیر اطلاعات وبلدیات کامران بنگش کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کے ذریعے فوری طور پر ڈیڑھ لاکھ ٹن امپورٹ کی منظوری دی ہے جبکہ مزید امپورٹ اور تمام آپشنز کھلے رکھنے کی بھی منظوری دی تاکہ کسی قسم کی قلت نہ ہو۔

ان کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ لاکھ ٹن گندم درآمد پر مجموعی طور پر 8.510 بلین روپے لاگت آئے گی، گندم کی فلور ملوں کو باقاعدہ ترسیل اور قیمتوں میں استحکام کے لئے حکومت تمام اپشنز کھلے رکھے گی۔

کامران بنگش نے مزید بتایا کہ صوبائی کابینہ نے ایک کمیٹی تشکیل دی جو ملکی ومقامی سطح پر بھی گندم کی خریداری کے لئے پرائیوٹ سیکٹر سے بات چیت کریں گی۔ کمیٹی وزیر خواراک، وزیر خزانہ، وزیر تعلیم اور سیکرٹری خوراک پر مشتمل ہوں گی۔

واضح رہے کہ اتوار کے روز پشاور کے نانبائیوں نے ڈپٹی کمشنر سے کامیاب مذاکرات کے بعد پیر کے دن یعنی آج سے شروع ہونے والے احتجاج کی کال واپس لے لی تھی۔ ڈپٹی کمشنر نے نانبائیوں کی جانب سے روٹی کا وزن کم کرنے کا مطالبہ تسلیم کرلیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنر نے نانبائیوں کو روٹی کا وزن کم کرنے لیکن قیمت نہ بڑھانے پر راضی کر لیا ہے۔ نئے نرخ نامے کے مطابق اب پشاور میں 115 کی بجائے 100 گرام روٹی 10 روپے میں ملے گی۔

نانبائی ایسوسی ایشن کے عہدیدار نے چند دن پہلے پشاور میں صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا جس کے بعد صوبائی وزیرخوراک نے ان سے ملاقات کی تھی۔

صوبائی وزیر نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ صوبے میں گندم کا سٹاک دیکھ کر تندوروں کو آٹے پر سبسڈی کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔ صوبائی وزیر کے کہنے پر نانبائیوں نے اس وقت احتجاج ختم کردیا تھا لیکن ساتھ میں یہ اعلان کیا تھا کہ اگر صوبائی حکومت انہیں رعائتی قیمتوں پر آٹا فراہم کرنے میں ناکام رہی تو 24 اگست سے ضلع بھر میں احتجاجی طور پر تندور بند رہیں گے۔