حکومت اور نانبائیوں میں مذاکرات، احتجاج 24 اگست تک ملتوی

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

خیبرپختونخوا حکومت نے نانبائیوں کو سستا آٹا فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے جس پر نانبائیوں نے اپنا احتجاج ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

آج بروز بدھ صوبائی وزیر خوراک قلندر لودھی نے نانبائی ایسوسی ایشن پشاور کے عہدیداران کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران یقین دہانی کرائی کے حکومت ان کے تمام جائز مطالبات حل کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے گی اور انہیں رعائتی قیمت پر آٹا فراہم کرنے کی کوشش کرے گی۔

انہوں نے تنظیم کے عہدیداران سے کہا کہ حکومت کے ساتھ مل کر عوام کو ریلیف فراہم کرے بجائے اس کے کہ انہیں تکلیف دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ خوراک عوام کو روزمرہ استعمال کی تمام بنیادی اشیاء خوردونوش پر نظر رکھی ہوئی ہے اور عوام کو ہر قسم ریلیف دی جارہی ہے۔  انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے وژن اور وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان کی قیادت میں صوبے کے عوام کو سبسڈائزڈ آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔

دوسری جانب نانبائی ایسوسی ایشن پشاور کے صدر اقبال خان نے صوبائی وزیر خوراک سے ملاقات کے بعد ٹی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال انہیں سبسڈائزڈ قیمت پر آٹا فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن ساتھ میں صوبائی وزیر نے یہ بھی کہا ہے کہ سبسڈائز قیمت کا حتمی فیصلہ صوبے کا موجودہ سٹاک دیکھنے کے بعد کیا جائے گا۔

تنظیم کے صدر نے کہا کہ اگر حکومت انہیں سستا آٹا فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی تو 24 اگست سے نانبائیوں کا احتجاج  شروع ہوگا اور ضلع میں تمام تندور بند رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت انہیں 115 گرام روٹی 10 روپے میں فروخت کرنے کا کہہ رہی ہے جبکہ یہ قیمت 2007 کا ہے جبکہ 85 کلو بوری ساڑھے 3 ہزار روپے میں دستیاب تھی۔ اب آٹے کی یہی بوری 6 ہزاردو روپے سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نانبائی اب 100 گرام روٹی 10 روپے میں بیچ رہے ہیں لیکن اس میں بھی نقصان ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز پشاور کے نانبائیوں نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تھا۔