توہین مذہب : پستول فراہم کرنے کے الزام میں وکیل گرفتار

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

پشاور کے جوڈیشل کمپلیکس میں توہین مذہب کے ملزم کے قاتل کو مبینہ طور پر پستول دینے والے وکیل کو گرفتار کر لیا گیا۔

کیس کے تفتیشی افسر لال زادہ خان کا کہنا ہے کہ توہین مذہب کے ملزم طاہر نسیم کو قتل کرنے کے لئے نوجوان کومبینہ طور پر پستول فراہم کرنے کے الزام میں ایک جونیئر وکیل کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وکیل کو انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کے روبرو پیش کیا گیا جنہوں نے وکیل کا 3 روز کا ریمانڈ دے دیا۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 17 سالہ قاتل نے دوران تفتیش قتل کا اعتراف کیا اور دعویٰ کیا کہ انہیں پستول جوڈیشل کمپلکس کے اندر ایک وکیل نے فراہم کردی تھی۔

کمرہ عدالت میں مشتبہ توہین مذہب و رسالت کے ملزم کے قتل کے الزام کا سامنا کرنے والے نوجوان لڑکے نے پیر کو انسداد دہشت گردی عدالت سے اپنی ضمانت کی درخواست واپس لے لی تھی۔

ملزم کے وکلا کا ایک پینل عدالت میں پیش ہوا اور آگاہ کیا تھا کہ ان کے موکل ضمانت کی درخواست کی پیروی نہیں کرنا چاہتے اور وہ صرف کیس کا ٹرائل جلد مکمل ہونے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

عدالتوں میں جانے سے قبل وکلا کی عام طور پر تلاشی نہیں لی جاتی ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار وکیل نے خفیہ طور پر قاتل نوجوان کو پستول دی تھی۔

واضح رہے کہ 29 جولائی کو57 سالہ طاہر احمد نسیم ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں اپنے مقدمے کی سماعت کے دوران دلائل کے بعد بیٹھے تھے اور جیل منتقلی کا انتظار کر رہے تھے جب انہیں قریب سے متعدد گولیاں ماری گئی تھیں۔

حکام و عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ جب جج کے سامنے طاہر نسیم کے خلاف چارجز پڑھ کر سنائے جارہے تھے اس وقت وہاں موجود ایک نوجوان نے پستول نکالی اور طاہر کے سر پر گولی ماری۔

توہین مذہب کا ملزم کے ساتھ امریکی شہریت بھی تھی اور ان کے قتل کے بعد امریکا نے پاکستان پر زور دیا تھا کہ قتل کے معاملے پر کارروائی کرے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ‘ہم امریکی شہری طاہر نسیم کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہیں، جنہیں پاکستان کی کمرہ عدالت میں قتل کردیا گیا۔’

ٹوئٹ میں کہا گیا کہ ‘ہم پاکستان پر زور دیتے ہیں کہ وہ فوری کارروائی کرے اور دوبارہ ایسے شرمناک سانحات کی روک تھام کے لیے اصلاحات کرے۔’

طاہر نسیم کے خلاف پولیس میں شکایت نوشہرہ کے رہائشی و اسلام آباد میں مدرسے کے طالب علم ملک اویس نے درج کروائی تھی۔

طاہر نسیم پر 4 فروری 2019 کو دفعات 153۔اے، 295۔اے اور 298 کے تحت فرد جرم عائد کی گئی تھی تاہم ملزم نے ان چارجز کو مسترد اور اپنے دفاع کا فیصلہ کیا تھا۔