‘قبائلی اضلاع میں کسی کو بھی لشکرکشی کی اجازت نہیں دی جائے گی’

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

انسپکٹرجنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ثناء اللہ عباسی نے کہا ہے کہ نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں کسی کوبھی لشکرکشی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

میڈیا کے ساتھ بات چیت کے دوران آئی جی کے پی کے کا کہنا تھا کہ اگر کسی نے قبائلی اضلاع میں لشکرکشی کی کوشش کی تو قانون حرکت میں آئے گا اور ایسا  کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے 9 ہزار خاصہ دار اور لیویز اہلکار پولیس میں ضم ہوچکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کی وجہ سے خیبرپختونخوا میں امن قائم ہوچکا ہے۔

یاد رہے گزشتہ روز باجوڑ میں سلارزئی قوم نے رٸیس خان کے قتل میں ملوث پانچ افراد کے گھروں کو خود آگ لگا دی اور مسمارکردیا تھا۔ منگل کے روز نامعلوم افراد نے تحصیل سلارزئی کے علاقہ لر سیدین ناراضہ سرو کلی میں رئیس ولد شیر محمد کو قتل کردیاتھا۔

باجوڑ پولیس کے ڈی ایس پی گلزر خان کے مطابق 18سالہ لڑکے رئیس کے گلے میں پہلے پھندہ ڈالاگیا جبکہ بعد میں سر میں ایک گولی مارکر قتل کیاگیا۔ باجوڑ پولیس نے ڈی ایس پی گلزر خان کی قیادت میں کاروائی کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا جبکہ قاتلوں نے جس گاڑی کو استعمال کیا اس گاڑی کو سلارزی غنڈی میں فضل غنی نامی شخص کے گھر سے برآمد کرلیا۔

بدھ کے دن سلارزئی قوم کے پانچ سو لوگوں نے قتل میں ملوث پانچ افراد کے گھروں کو آگ لگا کر مسمار کردیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق رئیس خان نامی لڑکے کو قتل کیا گیا ہے ذاتی دشمنی کی بنا پر قتل کیا گیا ہےلیکن سلارزئی علاقے میں یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ کسی کو پیسوں پر قتل کیا گیا ہے اسلیے سلارزئی قوم نے یہ کاروائی کی ہے۔