پشاور میں بجلی کی آنکھ مچولی، عوام سڑکوں پرنکل آئے

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

پشاور میں بجلی کی آنکھ مچولی اور طویل لوڈشیڈنگ کیخلاف پشاور کے عوام سڑکوں پر نکل آئے اور مرکزی وصوبائی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

پشاور میں گزشتہ ہفتے سے جاری بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور آنکھ مچولی نے عوام کی زندگی اجیرن بنادی جس کے باعث گھروں اور مساجد میں پانی ناپید ہو گیا ہے۔ شدید گرمی اور بجلی لوڈشیڈنگ سے تنگ عوام نے ولی آباد یکہ توت ‘ گنج چوک اور لاہوری گیٹ سمیت دیگر علاقوں میں ٹائر جلا کر شدید احتجاج کیا اور مرکزی و صوبائی حکومت کے خلاف شدید نعر ے بازی کی اور حکومت سے بجلی کی آنکھ مچولی اور طویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ اہل پشاور کی جانب سے بجلی کے بلز باقاعدگی سے جمع کئے جاتے ہیں تاہم پسکو حکام کی جانب سے پھر بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے جس کے باعث گھریلو اور کاروباری امور بری طرح ناکام ہو گئے ہیں۔ مظاہرین نے کہا کہ بجلی لوڈشیڈنگ اور ٹرپنگ کے حوالے سے کئی بار متعلقہ حکام کو آگاہ کیا مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہے۔

مظاہرین نے حکومت سے بجلی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور دھمکی دی کہ اگر فوری طور پر بجلی لوڈشیڈنگ اور ٹرپنگ کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو وہ واپڈا ہائوس کے گھیرائو سے گریز نہیں کریں گے جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔

دوسری جانب پیسکو حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح خیبرپختونخوا میں شدید گرمی کی جاری لہر کی وجہ سے بجلی استعمال بہت بڑھ گیا ہے، جس سے بجلی کا ترسیلی نظام شدید اوورلوڈنگ کا شکار ہو کر باربارٹرپ کرجاتا ہے۔

گرمی کی اس شدید لہر کی وجہ سے بجلی کی لائنوں اورگرڈ سٹیشنز پر لووولٹیج اورلوفریکونسی کے مسائل پیدا ہونے کی وجہ سے 500 کے وی ،220 کے وی اور132 کے وی گرڈ سٹیشنز پر 50فیصد لوڈمینجمنٹ شروع کردی گئی ہے،تاکہ کسی بڑے بریک ڈاؤن سے بچا جاسکے،اس میں پشاور،سوات،صوابی،بنوں اورملحقہ علاقے شامل ہیں،اسی طرح گرمی اوراوورلوڈنگ کی وجہ سے لائن پر ٹیکنیکل فالٹ کی وجہ سے بھی بجلی کی فراہمی میں تعطل واقع ہوتا ہے کسی قسم کی فالٹ کی صورت میں اس موسم میں جہاں باہرنکلنا سخت تکلیف دہ ہے وہاں پیسکو کے محنتی کارکنان تپتی دھوپ میں کھمبوں پر چڑھ کر مرمتی کام سرانجام دے رہے ہیں اورعوام کو بجلی کی فراہمی بحال کرنے کے لئے اپنی جان بھی قربان کردیتے ہیں۔