قبائلی ضلع خیبر میں شجرکاری مہم پر جاری تنازعہ ختم

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

قبائلی ضلع خیبر میں شجرکاری مہم پر جاری تنازعہ ختم ہو گیا، شہریوں نے پودے لگانے پر رضامندی ظاہر کر دی۔

ڈپٹی کمشنر محمود اسلم وزیر کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور مقامی شہریوں کے درمیان کامیاب مذاکرات ہوئے جس کے بعد تحصیل باڑہ علاقہ منڈئی کس میں مقامی شہری پودے لگانے پر رضامند ہو گئے۔

انہوں نے بتایا کہ محکمہ جنگلات عملہ، ٹائیگرز فرس رضارکار اور ضلعی انتظامیہ عملہ نے پودے لگانا شروع کر دیئے، تحصیل بھر میں 50 ہزار پودے لگائے جائیں گے۔

محمود اسلم وزیر کے مطابق شجرکاری مہم کی افتتاحی تقریب میں آج صبح بدنظمی پیدا ہوئی تھی، شجرکاری کی اراضی پر مقامی شہریوں کا تنازعہ تھا؛ شہریوں نے مشتعل ہو کر پودے اکھاڑ دیئے تھے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے لنڈی کوتل تحصیل کمپاؤنڈ میں شجر کاری مہم کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ ایک ارب پودے لگانے کا ٹارگٹ پور کریں گے، اچھے لیڈر کی خصوصیات ہیں کہ نئی نسل بھی اس مہم میں حصہ لے رہی ہے۔

وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے کہا کہ بعض لوگ بے بنیاد پروپگینڈہ کر رہے ہیں اور کہا کہ پودے کاشت کرنا ثواب کا کام ہے اور یہ صدقہ جاریہ ہے جبکہ ماحول پر دور رس مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں، ایک وقت میں پاکستان پانی سے خود کفیل ملک تھا لیکن اب ماحول میں تبدیلی کی وجہ سے پانی کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے، پانی کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے ٹائیگر فورس یہ ذمہ داری پوری کرے گی، پورے ملک میں یہ مہم جاری ہے، علماء خطبات میں لوگوں کو شعور دیں، علماء کلین اینڈ گرین پاکستان میں کردار ادا کریں، کراچی میں ایک تنظیم نے بہترین کام کیا سکولوں اور کالجوں میں مسلسل طلباء کو شعور دیں تو پھر ٹارگٹ حاصل کرنا مشکل نہیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام مکاتب فکر کے لوگ بڑھ چڑھ کر شجر کاری مہم میں حصہ لیں جوچیلنجز درپیش ہیں انکے لئے پہلے سے تیار رہنے سے قابو کر سکتے ہیں ایمانی جذبے اور قومی جذبے سے شجر کاری مہم میں حصہ لیں۔

پیر نورالحق قادری نے کہا کہ سالانہ ایک لاکھ پودے ضلع خیبر میں اور پچاس ہزار پودے لنڈی کوتل میں لگا دئے جائیں گے. اس موقع پر سول انتظامیہ کے افسران اور ایم پی اے ویلسن وزیر و دیگر بھی موجود تھے۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز ضلع خیبر میں مون سون شجرکاری مہم کا افتتاح کر دیا گیا تھا۔ ممبر قومی اسمبلی و پارلیمانی سیکرٹری سیفران اقبال آفریدی نے پودا لگا کر مون سون شجرکاری مہم کا آغاز کیا تھا۔

آج حکومتی شجرکاری مہم اس وقت ہلڑ بازی کا شکار ہو گئی جب مقامی لوگوں نے لگائے گئے ہزاروں پودے واپس نکال کر پھینک دیئے تھے۔