دیر تا چترال روٹ کا معاملہ اسمبلی سیکرٹریٹ پہنچ گیا

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

سوات موٹر وے فیز 2 میں دیر تا چترال روٹ شامل نہ کرنے کا معاملہ اسمبلی سیکرٹریٹ پہنچ گیا۔

جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر عنایت اللہ خان، حاجی سراج الدین خان اور حمیرا خاتون نے تحریک التواء اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرا دیا۔

چکدرہ تا شندور اپر چترال روٹ کو سوات موٹر وے کے فیز ٹو میں شامل نہ کرنے سے ضلع لوئر و اپر دیر ،ضلع باحوڑ، اور چترال کی دونوں اضلاع کے عوام میں شدید تشویش اور اضطراب پر سابق سینئر صوبائی وزیر عنایت اللہ خان، باجوڑ سے رکن صوبائی اسمبلی حاجی سراج الدین خان اور خاتون رکن صوبائی اسمبلی حمیراخاتون نے جمعرات کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں تحریک التواء جمع کراتے ہوئے موقف اپنایا ھے کہ چکدرہ تا شندور اپر چترال روٹ CEPECکا متبادل روٹ بھی ہے اس لئے اس منصوبے کو سوات موٹروے کے فیز ٹو میں شامل نہ کرنے سے دیر پائین، دیر بالااور ضلع باجوڑ کے لاکھوں عوام میں شدید تشویش اور مایوسیاں جنم لے رہی ہیں۔

انہوں نے سپیکر صوبائی اسمبلی سے استفسار کیا ھے کہ یہ ایک انتہائی اہم عوامی نوعیت کا مسلہ ھے لہذا سوات موٹر وے کے فیز ٹو میں چکدرہ تا اپر چترال روٹ کو شامل نہ کرنے سے متعلق وزیر مواصلات اس معزز ایوان کو اصل حقائق سے آگاہ کریں اور ہماری اس تحریک التواء کوبحث کے لئے منظور کیا جائے تاکہ چکدرہ تاشندور اپر چترال کو سوات موٹر وے کے فیز 2 میں شامل نہ کرنے کے نتیجے میں عوام بالخصوص دیر پائین،دیر بالا، بونیر اور باجوڑ کے مکینوں میں پائی جانی والی تشویش کا سدباب ممکن ہو سکے۔