شمالی اور جنوبی وزیرستان کے 556 خاصہ دار و لیویز اہلکار پولیس میں ضم

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی کی جانب سے بھیجے گئے مراسلے پر صوبائی کابینہ نے شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے 556 خاصہ دار اور لیویز اہلکاروں کے پولیس میں انضمام کی منظوری دے دی ہے جس کا باقاعدہ اعلامیہ جاری کردیا گیا۔

اعلامیہ کے مطابق جنوبی وزیرستان کے 233 خاصہ داروں جبکہ شمالی وزیرستان کے 279 خاصہ داروں اور 44 لیویز اہلکاروں کو پولیس میں ضم کردیا گیا ہے۔ لیویز اور خاصہ دار فورس کے صوبیدار کو خیبر پختونخوا پولیس میں انضمام کے بعد سب انسپکٹر، نائب صوبیدار کو اے ایس آئی، حوالدار کو ہیڈ کانسٹیبل، نائیک کو کانسٹیبل، بی1 پاس (ایل ایچ سی) اور سپاہی کو کانسٹیبل کے رینک دیئے گئے ہیں۔

اس طرح سے خاصہ دار فورس کے 6اہلکاروں کو سب انسپکٹر ، ایک کو اے ایس آئی، 22 کو ہیڈ کانسٹیبل، 30 کوکانسٹیبل بی1 (ایل ایچ سی) اور 453کو کانسٹیبل، جبکہ شمالی وزیرستان کے 44 سپاہیوں کو کانسٹیبل کی حیثیت سے پولیس میں ضم کردیا گیا ہے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس سلسلے میں گذشتہ ہفتے 1500 خاصہ دار اور لیویز اہلکاروں کے پولیس میں انضمام کا نوٹیفیکیشن بھی جاری ہو چکا ہے اور یوں ضم شدہ اضلاع کے خاصہ داروں اور لیویز اہلکاروں کے پولیس میں انضمام کا عمل بڑی تیزی سے تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔

اس موقع پر آئی جی پی ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ خاصہ داروں اور لیویز اہلکاروں کے ساتھ اْن کے پولیس میں انضمام کا وعدہ شرمندہ تعبیر ہو رہا ہے۔ انہوں نے سابقہ خاصہ داروں اور لیویز اہلکاروں کو پولیس میں ضم ہونے پرمبارک باد دی اور اْن کو پولیس کا باقاعدہ حصہ بننے پر خوش آمدید بھی کہا۔آئی جی پی نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کی پولیس کو بہترین اور پیشہ ورانہ فورس بنانے کے لیے تمام تر اقدامات بڑی سرعت کے ساتھ اْٹھائے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کی پولیس کی ٹریننگ 3اگست سے شروع ہورہی ہے۔ ضم شدہ اضلاع کو نئی گاڑیوں کی فراہمی بھی شروع ہو گئی ہے جبکہ پولیس تھانوں اور پولیس کو جدید اسلحہ کی فراہمی کے لیے بھی اقدامات اْٹھائے جاچکے ہیں۔