طورخم بارڈر پر قربانی کے دنبوں پرعائد پابندی کے خلاف احتجاج

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

ضلع خیبر میں پاک افغان شاہراہ پر نوجوانان قبائل کے زیر اہتمام طورخم بارڈر کے راستے قربانی کے لئے دنبے لانے پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ہوا۔

مظاہرین نے کچھ وقت کے لیے پاک افغان شاہراہ کو ہر قسم ٹریفک کے لئے بند کر دیاتھا، احتجاجی مظاہرے سے طورخم کسٹم کلئیر نس ایجنٹس کے چیئر مین معراج الدین شینواری، نوجوانان قبائل کے سابق صدر اسرار شینواری مزدور یونین کے صدر حاجی فرمان شینواری حاجی شاہ محمد شینواری, مولانا حضرت اللہ, اکرام الدین اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے طورخم بارڈر کے راستے قربانی کے لیے دنبوں پر پابندی کی وجہ سے علاقے کے ہزاروں افراد کا قربانی سے محروم ہونے کا خدشہ ہے جوکہ علاقے کے عوام کے ساتھ سراسر ظلم ہے۔

مقررین نے کہا کہ کوئٹہ چمن بارڈر خر لاچی بارڈر اور دیگر بارڈر پر عیدالاضحیٰ کے لیے قربانی کے دنبوں کو اجازت دی گئی ہے لیکن طورخم بارڈر کے راستے ابھی تک دنبوں کو اجازت نہیں دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طورخم بارڈر کے راستے دنبے لانے پر پابندی میں کسٹم این ایل سی ایف سی اور دیگر مافیا رکاوٹ ہے جس کے باعث ابھی تک افغانستان سے طورخم بارڈر کے راستے دنبے نہیں پہنچ سکے جوکہ افسوس کا مقام ہے۔

نوجوانان قبائل کے سابق صدر اسرار شینواری اور دیگر مقررین نے کہا کہ طورخم بارڈر پر این ایل سی کسٹم اور ایف سی حکام کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے طورخم بارڈر پر کام کرنے والے ہزاروں مزدور بے روزگار ہو گئے اور فاقہ کشی پر مجبور ہو گئے ہیں جوکہ یہاں کے مزدوروں اور عوام کے ساتھ سراسر نا انصافی ہے۔

احتجاجی مظاہرہ کے موقع پر شرکاء نے حکومت کو 2دن کا ڈیڈلائن دیتے ہوئے کہا کہ کہ اگر دو دن کے اندر افغانستان سے طورخم بارڈر کے راستے دنبے لانے پر پابندی ختم نہ کر دی گئی تو پاک افغان شاہراہ پر نہ ختم ہونے والا احتجاجی دھرنا دیں گے جوکہ مطالبات تسلیم ہونے تک جاری رہے گا. احتجاجی دھرنا کے موقع پر پاک افغان شاہراہ کو ہر قسم کے ٹریفک کے لئے بند کر دیاگیا تھا جس کے باعث مال بردار گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی تھی۔