1500 سابقہ خاصہ داروں اور لیویز اہلکاروں کا پولیس میں انضمام

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے آج ضم شدہ اضلاع کے ریجنل اور ضلعی پولیس افسران کے ساتھ ویڈیو لنک کانفرنس کی صدارت کی۔ جس میں ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز، ڈی آئی جی آپریشنز، ریجنل پولیس آفیسرز بنوں، ڈی آئی خان، کوہاٹ، ملاکنڈ، مردان، سی سی پی او پشاور اور ڈی پی اوز کوہاٹ، خیبر، باجوڑ، اوکرزئی، مہمند، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان سمیت دیگر اعلیٰ پولیس حکام نے شرکت کی۔

ضم شدہ اضلاع کے آر پی اوز اور ڈی پی اوز نے آئی جی پی کو خاصہ داروں اور لیویز اہلکاروں کے پولیس میں انضمام اور ان کی تربیت، تنخواہوں، ویلفیئر اور ترقی سے متعلق اُٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔

انہوں نے کہا کہ پولیس میں انضمام کا عمل تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ تنخواہوں کی بروقت اور بلا تعطل فراہمی کے لیے مربوط نظام قائم کردیا گیا ہے۔ انضمام کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لیے شہداء پیکج کے کسیز تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔

اسی طرح سے پولیس ویلفیئر فنڈ سے ضم شدہ اضلاع کے پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے درخواستیں طلب کی جاچکی ہیں۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے آئی جی پی نے کہا کہ آج خاصہ داروں اور لیویز کے اہلکاروں کے پولیس میں انضمام کے دوسرے مرحلے میں 1500 اہلکاروں کا نوٹیفکیشن جاری ہو گیا ہے اور یوں انضمام کا عمل اپنی تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔

انہوں نے پولیس میں ضم ہونے پر تمام اہلکاروں کو مبارک باد دی۔ انہوں نے کہا کہ اب ضم شدہ پولیس کی فلاح و بہبود پر توجہ دی جائے گی اور کہا کہ آج کی کانفرنس کا مقصد ضم شدہ اضلاع کے پولیس کے مسائل اور ان کے لیے اُٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لینا تھا۔

انہوں نے اعلیٰ پولیس حکام کو ہدایت کی کہ پولیس اہلکاروں کو درپیش مسائل جلد از جلد حل کریں اور ان کے وہ تمام سہولیات اور مراعات بہم پہنچائیں جو محکمہ پولیس میں دیگر ضلعوں کے پولیس اہلکاروں کو حاصل ہیں۔ انہوں نے خصوصی طور پر ہدایت کی کہ پولیس شہداء کے ورثاء کی ہر طرح سے مدد کی جائے اور شہداء پیکج کی فراہمی کو جلد از جلد یقینی بنایا جائے۔