ضلع خیبر میں فاٹا انضمام کیخلاف احتجاج

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

فاٹا انضمام بلجبر اور غیرجمہوری طورپر ہوا ہے، پولیس اور پٹوار نظام نامنظور، قبائلی عمائدین کا جمرود باب خیبر کے مقام پر احتجاجی مظاہرہ ہوا.

قبائلی اضلاع میں پٹوار اور پولیس نظام کے مکمل خلاف ہیں فاٹا انضمام جبری اور غیر جمہوری عمل ہے، خاصہ دار اور لیوی فورس کے ساتھ ظلم جاری ہے، باہر سے غیر مقامی پولیس لائے جارہے ہیں جو کہ مقامی نوجوانوں کی حق تلفی ہے.  جب سے فاٹا انضمام ہوا ہے تو اسی دن سے فاٹا کے حالات دن بدن بدتر ہوتے جارہے ہیں دہشتگردی اور اراضی تنازعات میں اضافہ سامنے آرہا ہے جو کہ تشویشناک ہے۔

ان خیالات کا اظہار خیبر قومی جرگہ کے چیئرمین ملک بسم اللہ خان، ملک صلاح الدین، ملک اسراراللہ، ملک شجاع، ملک پرویز، ملک داوود، ملک سیدکبیر، ملک طہماش خان شلمانی، ملک اصیل خان، ملک نصیب طورخیل، ملک سردار اعظم آفریدی، ملک حلوت شاہ کے علاوہ جمرود بازار کے صدر رفیع رضاء و دیگر نے باب خیبر میں فاٹا انضمام کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے دوران کرتے ہوئے کیا۔

ملک پرویز نے کہا کہ شہداء کے وظائف بند کرنا ظلم ہے فاٹا میں شہداء وظائف میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی تھی جبکہ انضمام کے بعد شہداء کے لواحقین دربدر ٹھوکرے کھا رہے ہیں۔ ملک بسم اللہ آفریدی نے کہا کہ انضمام میں قبائلی عوام کا شدید نقصان ہوا ہے، طلباء اور مریضوں کو شدید مشکلات ہے، ٹرانسپورٹ کا نظام درہم برہم ہے، باہر سے غیر مقامی پولیس تعینات کئے جارہے ہیں جو کہ سراسر ناانصافی اور ظلم ہے۔

ملک داود قبائلستانی نے کہا کہ پولیس کے چھاپے نامنظور ہیں اور شدید مخالفت کرتے ہیں۔ آخر میں قبائلی مشران نے کہا کہ آزاد قبائلستان صوبہ دیا جائے یا فاٹا انضمام کو واپس کیا جائے اور انصاف نہ ملنے تک مظاہرے اور جدوجہد جاری رکھیں گے۔