قبایلی اضلاع میں بند مسجد دوبارہ کھلنے لگے

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

قبائلی ضلع کرم میں مسجد کی بحالی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مقامی مذہبی، سماجی اور سیاسی قیادت نے علاقہ کی مشہور بزرگ شخصیت حضرت میر انور شاہ سید کے مزار کو کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ٹرائبل پریس  کے ساتھ گفتگو میں ممبر قومی اسمبلی ساجد طوری نے ڈبوری اورکزئی میں مسجد کھولنے کو خوش آئندقرار دیا اور کہا کہ بزرگ ولی اللہ اور روحانی پیشوا حضرت میر انور شاہ سید کی زیارت بھی کھول دی جائے۔

ضلع کرم سے ممبر قومی اسمبلی ساجد حسین طوری نے ڈبوری اورکزئی میں سالوں سے بند مسجد کا افتتاح کا خرمقدم کرتے ہوئے وزیراعلی خیبر پختونخواہ اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا کہ تین سو سال پرانے بزرگ صوفی اور روحانی پیشوا حضرت میر انور شاہ بزرگوار کی زیارت کی تعمیرنو اور عوام الناس کے لئے کھولنے کی اجازت دی جائے تاکہ لاکھوں مریدین اور عقیدتمند فیض یاب ہو سکیں۔

‏‎ساجد طوری نے کہا کہ بزرگ ولی اللہ حضرت میر انور شاہ سید تین صدیاں قبل اورکزئی کے علاقے کلایہ تشریف لائے اور تبلیغ دین کے سلسلے میں وادی تیراہ میں مقیم ہوئے جن کے ضلع کرم اور اورکزئی سمیت دنیا بھر میں لاکھوں عقیدت ہیں۔

ساجد طوری نے کہا کہ برزگ ولی اللہ حضرت میر انور شاہ سید کے مزار اقدس کی تعمیر مغل بادشاہ ہمایوں نے کی تھی جو پختونخواہ میں مغل فن تعمیر کا ایک عظیم شاہکار تھا لیکن بدقسمتی سے ایک قبائلی جھگڑے کی نذر ہو کر مزار کی حالت خستہ حال ہو گئی ہے۔

ساجد حسین طوری نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوئر اورکزئی میں بادشاہ میرانور سید کی زیارت کی تعمیر پر تاحال پابندی ہے جو کہ ناقابل برداشت ہے کیونکہ زیارت کی بندش کے خلاف عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور پاراچنار، ہنگو، کوہاٹ، اورگزئی سمیت مختلف علاقوں میں عقیدت مند عرصہ دراز سے دھرنے اور احتجاج کر رہے ہیں، عوام کا دیرینہ اور پُرزور مطالبہ ہے کہ اس عظیم صوفی بزرگ کی زیارت گاہ کو فوری طور پر زائرین کیلئے کھول دیا جائے اور زیارت کی تعمیرنو و مرمت کی بھی اجازت دی جائے۔ ‎

دوسری جانب ضلع کرم کے مذہبی و قبائلی عمائدین نے بھی اورکزئی کے علاقے ڈبوری میں فورسز کے ہاتھوں متازعہ مسجد کی تعمیر شروع کرنے کو خوش آئند اقدام قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ عظیم صوفی بزرگ میاں بزرگوار کا مزار کی تعمیر بھی جلد شروع کیا جائے۔

پاراچنار کے نواح میں واقع زیڑان میر کلاں میں روحانی پیشوا سید آغا بادشاہ اور ان کے بھائی سید محسن جان کے عرس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ممبر صوبائی اسمبلی سید اقبال، سید میاں، سید محمود جان میاں اور سابقہ سینیٹر سجاد سید میاں نے کہا کہ اورکزئی میں بدامنی کے دور میں ڈبوری مسجد اور میاں بزرگوار کے مزار کی تعمیر پر پابندی لگائی گئی تھی اب بدامنی کا دورختم ہو گیا ہے اور فورسز نے ایک مسجد کی تعمیر بھی شروع کر دی ہے جو کہ خوش آئند بات ہے مگر ساتھ ساتھ بادشاہ میر انور شاہ بزرگوار کے مزار کی تعمیر بھی جلد شروع کی جائے اور اسے زائرین کے لئے کھول دیا جائے۔

عرس کی تقریب میں ضلع کرم کے ساتھ ساتھ ملک بھر سے سید آغا بادشاہ کے عقیدت مندوں نے شرکت کی، عرس کی تقریب کئی روز سے دن رات جاری رہی جس میں شرکت پر سید آغا بادشاہ کے بھائی سید محمود جان میاں نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔