پارہ چنار : شہری پانی کے باوجود پانی کے بوند بوند کو ترس رہے ہیں

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

ضلع کرم کے ہیڈ کوارٹر پاراچنار میں شہری 22 ٹیوب ویلوں، چشموں اور دریائے کرم کے پانی کے باوجود صاف پانی کے بوند بوند کو ترس رہے ہیں اور پانی کی ضرورت پورا کرنا ہی لوگوں کے لئے بڑا مسلہ بن گیا ہے۔

پاراچنار شہر جو کہ کوہ سفید کے دامن میں واقع ہے ضلع کرم کا ہیڈ کوارٹر ہے ضلع کرم میں صاف پانی سالہا سال موجود رہتی ہے اور شہر کے اطراف میں صاف و شفاف پانی کے چشمے بے شمار ہیں حکومت نے شہریوں کی پانی کی ضرورت پورا کرنے کیلئے مختلف علاقوں میں 22 ٹیوب ویل قائم کئے ہیں ٹاؤن کمیٹی پاراچنار 1958 انگریز دور میں قائم ہوئی ہے اور 1960 میں علاقہ زیڑان اور ملانہ سے شہر کو پانی کی سپلائی کیلئے دو بڑے پائپ لائن بچھائے گئے ہیں شہر میں تیس تیس ہزار گیلن کے دو بڑے ریزروائرز بنائے گئے ہیں ان تالابوں سے شہریوں کو پانی فراہمی کیلئے پائپ لائن دئیے گئے ہیں مگر ان سارے انتظامات کے باوجود شہریوں کو صاف پانی میسر نہیں جس کی وجہ شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاراچنار شہر کی آبادی 39699 اور گھرانوں کی تعداد 3712 ہے تاہم نئی تعمیرات کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے اور شہر کے چاروں اطراف میں نئی آبادی کیلئے بھی پانی اور بجلی کا کوئی بندوبست نہیں ہے پاراچنار کے شمال میں واقع علاقے پرخو کے ایک رہائشی تنویر حسین کا کہنا ہے کہ انہوں نے آٹھ سال پہلے یہاں پر اپنا گھر بنا کر رہائش اختیار کی ہے مگر تاحال صاف پانی کا کوئی بندوبست نہیں اور ارد گرد ٹیوب ویل موجود ہونے کے باوجود ہمیں پائپ لائن نہیں دئیے جارہے ہیں اور مجبورا ہم وقتا فوقتاً زیڑان سے شہر کی طرف آنے والے مین پائپ لائن سے غیر قانونی پائپ لائن حاصل کرتے ہیں جو بار بار بلدیہ کی جانب سے کاٹی جاتی ہے تاہم اثر و رسوخ رکھنے والے لوگوں کو مین پائپ لائن سے باآسانی کنکشن دئیے جاتے ہیں۔

سینئر صحافی علی افضل افضال کا کہنا ہے کہ پاراچنار اور اردگرد نواح میں زیادہ تر ٹیوب ویل اثر و رسوخ رکھنے والے لوگوں کو دئیے گئے ہیں اور ذیادہ تر ٹیوب ویلوں پر چند افراد کا قبضہ ہوتا ہے اس وجہ سے بھی پانی کا مسلہ حل نہیں ہورہا ہے حکومت اور متعلقہ حکام نئے ٹیوب ویلوں کے قیام کے موقع پر کمیونٹی کی مشاورت سے میرٹ کی بنیاد پر ٹیوب ویلوں کی تنصیب کریں اور پاراچنار شہر کو پانی کی فراہمی کے لئے لگائے زنگ آلود پائپوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جس سے مختلف قسم کے امراض پھیلنے کا خدشہ ہے اور شہر میں ٹائفائیڈ سمیت مختلف امراض کا پھیلاؤ بھی مضر صحت پانی کا استعمال ہے۔

خواڑ کالونی کے رہائشی ساجد حسین کا کہنا ہے کہ ہمارے علاقے میں تین ٹیوب ویل موجود ہیں ٹیوب ویلوں کا پانی گندے نالوں میں ضائع ہورہا ہے لیکن لوگوں کو ان ٹیوب ویلوں سے پانی نہیں دیا جارہا ہے اس وجہ سے وہ صبح صبح گھر کی پانی کی ضرورت پورا کرتے ہیں اور اس کے بعد دیہاڑی کیلئے مزدور چوک پہنچ جاتے ہیں کیونکہ پانی کا ٹینکر ایک ہزار روپے سے لیکر دو ہزار تک ملتا ہے او وہ ٹینکر کا پانی غربت کی وجہ سے نہیں خرید سکتے ہیں۔

بلدیہ پاراچنار کے چیف آفیسر تنزیل حسین کا کہنا ہے کہ آبادی بڑھنے اور پانی کی سپلائی کیلئے مین پائپ لائن سے ڈائریکٹ کنکشن حاصل کرنے کی وجہ سے شہر میں پانی کا مسلہ پیدا ہوگیا ہے اور غیر قانونی کنکشن لینے کی وجہ سے نہ صرف مین پائپ لائن کو نقصان پہنچ رہا ہے اور پانی ضائع ہورہا ہے بلکہ بلدیہ کیلئے مختلف مسائل پیدا کررہے ہیں تنزیل حسین کا کہنا ہے کہ نئی آبادی کیلئے مزید تین ٹیوب ویلوں پر کام جاری ہے جس سے کافی حد تک شہریوں کو درپیش پانی کا مسلہ حل ہو جائے گا۔