چیف سیکرٹری کسی کابینہ رکن کیخلاف انکوائری کا مجاز نہیں

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے سابق مشیر اطلاعات اجمل وزیر کے کمیشن سکینڈل آڈیو ٹیپ کو فرانزک ٹیسٹ کے لئے ارسال کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق صوبائی چیف سیکرٹری کاظم نیاز کی سربراہی میں اجلاس ہوا جس میں اجمل وزیر کی مبینہ بدعنوانی کا معاملہ تحقیقات کیلئے محکمہ اینٹی کرپشن یا ایف آئی اے کو حوالہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

وزیر اعلیٰ نے ابتدائی طور پر چیف سیکرٹری کو تحقیقات کی ہدایت کی تھی تاہم صوبائی معاون خصوصی بلدیات اور مشیر اطلاعات کامران بنگش کے مطابق چیف سیکرٹری کسی کابینہ رکن کے خلاف انکوائری کا مجاز نہیں ہے (بلکہ) چیف سیکرٹری سمری تیار کر کے وزیراعلی کو منظوری کے لئے بھجوائیں گے، وزیراعلیٰ معاملہ کی تحقیقات کے لئے آج کمیٹی قائم کرنے کا بھی اعلان کریں گے۔

خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے اشتہاری ایجنسی کے مالک سے صوبہ کے سرکاری اشتہارات میں کمیشن طے کرنے کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صوبائی مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ اجمل وزیر کو فوری طور پر ان کے عہدہ سے برطرف کرتے ہوئے ان کیخلاف انکوائری کا حکم دیا تھا۔

ذرائع کے مطابق اجمل وزیر کی جانب سے استعفے سے انکار پر وزیراعلیٰ نے چیف سیکرٹری کو اجمل وایر کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے احکامات جاری کئے تھے۔

دوسری جانب مبینہ آڈیو سکینڈل کا شکار بننے والے اجمل وزیر نے کہا ہے کہ میرے خلاف سازش ہوئی، سازشوں نے راستہ روکنے کے لیے گھٹیا طریقہ اپنایا۔

اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے ویژن کا قائل ہوں، الزامات پر سامنا کروں گا، مختلف اجلاسوں اور بریفنگز کو ایڈٹ کرکے من گھڑت آڈیو تیار کرائی گئی۔