شمالی وزیرستان کے متاثرین نے امدادی پالیسی کو مسترد کردیا

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

آپریشن ضرب عضب سے متاثرہ شمالی وزیرستان کے مداخیل قبیلے نے امدادی رقوم اور راشن کی فراہمی کے لئے مجوزہ پالیسی کو مسترد کردیا اور کہا ہے کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں نے شمالی وزیرستان متاثرین کو بھکاری بننے پر مجبور کردیا ہے۔

بنوں ٹاؤن شپ چڑیا گھر کے پارک میں شمالی وزیرستان مداخیل قبیلے کا ایک احتجاجی جرگہ زیرصدارت رحمت اللہ خان منعقد ہوا۔

احتجاجی جرگہ سے شمالی وزیرستان سیاسی اتحاد کے چیئرمین ملک غلام خان وزیرمرحوم کے فرزند ملک رحمت اللہ وزیر,ملک نور خان وزیر, ملک اصل میر, ملک شروف خان, ملک معسود و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چھ سال مکمل ہونے کو ہیں مگر بدقسمتی سے شمالی وزیرستان کے عوام آج بھی دربد کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ ہم نے ملک کی خاطر قربانیاں دی ہیں ہماری قربانیوں کا صلہ محرومیوں میں دیا جارہا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ جو علاقے کلیئر ہیں ان کو عوام کی واپسی یقینی بنائی جائے اور اپریشن ضرب عضب کے دوران جو متاثرین افغانستان چلے گئے ہیں ان کی بھی باعزت طریقے سے اپنے علاقوں کو واپسی کا بندوبست کیا جائے کیونکہ وہ لوگ افغانستان میں مشکل زندگی بسر کررہے ہیں اب وہ مزید فاقوں پر مجبور ہیں۔

شرکاء نے مطالبہ کیا کہ راشن اور امدادی رقوم کی فراہمی کو پرانے طریقوں پر بحال کیا جائے۔ متاثرین نے جرگہ میں حکومت کو راشن اور امدادی رقوم کی بحالی کیلئے جمعہ تک ڈیڈلائن دے دی اور مطالبہ پورا نہ ہونے احتجاج سمیت ہر ممکن اقدام کی دھمکی بھی دے دی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شمالی وزیرستان کو زیادہ تر متاثرین کی واپسی مکمل ہوگئی ہیں جبکہ بنو کے بکا خیل کیمپ میں مدا خیل اور دتہ خیل قبائل کے ساڑھے 15 ہزار تک خاندان اب بھی مقیم ہیں۔