32 یورپی ممالک کو پاکستانی لائسنس یافتہ پائلٹس گراؤنڈ کرنے کی سفارش

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (ای اے ایس اے) نے 32 رکن ممالک کوپاکستانی پائلٹس کو گراؤنڈ کرنے کی سفارش کردی۔ ای اے ایس اے نے رکن ممالک کو خط میں کہا ہے کہ رکن ممالک مشتبہ لائسنس کے تناظرمیں فی الحال پاکستانی پائلٹس سے آپریشنل کام نہ لیں۔

ایجنسی نے کہا ہے کہ رکن ممالک میں اگرپاکستانی پائلٹس موجود ہیں تو بتایا جائے کہ ان سے متعلق کیا ایکشن لیا گیا ہے۔ 7 جولائی کو جاری کیے جانے والے تازہ میمو میں یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نےتمام رکن ممالک سے پاکستانی لائسنس یافتہ پائلٹس کو کام سے روکنے کی سفارش کی ہے اوران سے تمام پائلٹس کی تفصیلات طلب کی ہیں۔

 یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے اپنے رکن ممالک سے کہاہے کہ جیسا کہ آپ کے علم ہے کہ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے جاری کیے گئے 40 فیصد لائسنسز میں بہت زیادہ بے ضابطگیوں کی شکایات منظرعام پر آئی ہیں جو باعث تشویش ہے۔

ایجنسی اپنے 32اراکین کو مطلع کرتی ہے کہ وہ پاکستان کی جانب سے جاری کیے جانے والے لائسنسز پر کام کرنے والے پائلٹس کو معطل کردیں اورآپ کی آرگنائزیشن میں اگر کوئی پاکستانی لائسنس یافتہ پائلٹ کام کررہاہے تواس کی تفصیلات فراہم کی جائیں اوران پائلٹس کو فضائی آپریشن میں کام کرنے سے روک دیاجائے۔

خیال رہے کہ مشکوک لائسنس والے پاکستانی پائلٹس کا معاملہ سامنے آنے کے بعد 30 جون کو یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کی یورپین ممالک کے لیے فضائی آپریشن کے اجازت نامے کو 6 ماہ کیلئے معطل کیا تھا۔

ای اے ایس اے کی جانب سے پابندی کے بعد برطانیہ نے بھی پی آئی اے کی پروازوں کی  آمد پرپابندی عائد کردی تھی۔ گزشتہ دنوں ویت نام کی ایوی ایشن اتھارٹی نے بھی مشتبہ لائسنس کی اطلاعات کے بعد تمام پاکستانی پائلٹس گراؤنڈ کردیے تھے۔

ویت نام کے ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ ویت نام کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے 27 پاکستانی پائلٹوں کو لائسنس دیا تھا، جن میں سے 12 کام کررہے تھے جب کہ 15 کے معاہدے ختم ہو چکے تھے یا وہ کورونا کے باعث کام نہیں کر رہے تھے۔

اس کے علاوہ ملائیشیا نے بھی پاکستانی پائلٹوں کو عارضی طور پر معطل کردیا تھا جب کہ متحدہ عرب امارات کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایمریٹس ائیرلائنز میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹس اور فلائٹ آپریشن افسران کے مشکوک لائسنس کی جانچ پڑتال کے لیے پاکستانی حکام کو خط لکھا تھا۔