خیبرپختونخوا کے افسران کے خلاف مقدمہ درج، ریکوری شروع

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) خیبرپختونخوا نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں غبن کرنے والے 10 سرکاری ملازمین کے خلاف مقدمات درج کرکے ایک کروڑ 40 لاکھ روپے کی رقم ریکور کرلی۔

ایف آئی اے کے پی نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں غبن کی تحقیقاتی رپورٹ تیار کرلی اور رپورٹ کے مطابق غبن کرنے والے 10 سرکاری ملازمین کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے سروے میں خود کو سرکاری ملازم ظاہر نہیں کیا تھا جب کہ ملازمین سے ایک کروڑ 40 لاکھ روپے کی رقم بھی ریکور کی گئی ہے۔

سرکاری شناخت چھپانے والے ملازمین کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ 18 جنوری 2020 کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرمین ثانیہ نشتر نے پروگرام میں بڑے لیول کی کرپشن پکڑنے اور پروگرام میں سے آٹھ لاکھ سے زائد مستحقین نکالنے کا اعلان کیا۔

ثانیہ نشتر نے انکشاف کیا تھا کہ بینیظیر انکم سپورٹ پروگرام میں گریڈ 4 سے گریڈ 21 تک کے ایک لاکھ بیس ہزار سرکاری اہلکار مستحقین کی فہرست میں شامل تھے اور کئی سالوں سے غرباء کی یہ امدادی رقوم وصول کرتے رہے۔

وفاقی حکومت کے مطابق اس کرپشن میں سب سے زیادہ صوبہ سندھ کے سرکاری افسران ملوث تھے جبکہ خیبرپختونخوا کے ہزاروں ملازمین نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈائریکٹر جنرل عرفان یوسفزئی کے مطابق صوبے میں کل بارہ لاکھ خاندان اس پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ آڈٹ میں خیبرپختونخوا میں بھی ہزاروں خاندان اس لسٹ سے خارج کئے جا چکے ہیں جن میں پچیس ہزار سرکاری ملازمین بھی شامل تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان ملازمین میں پھر چار سو تین ایسے تھے جو گریڈ 17 یا اس سے اوپر کے افسران تھے۔

ایف آئی اے کے تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مزید سرکاری ملازمین کے خلاف بھی انکوائری جاری ہے اور بہت جلد مزید رقوم بھی ریکور ہوجائے گی۔

رپورٹ کے مطابق بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہونے والے زیادہ افراد کا تعلق شورش زدہ علاقوں سے ہے اور  آئی ڈی پیز کے نام پر سرکاری ملازمین نے اپنا اندراج کروایا تھا۔