احساس پروگرام: شمالی اور جنوبی وزیرستان میں نیا سروےکا فیصلہ

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان سے وزیر اعظم کی معاون خصوصی ثانیہ نشتر نے ملاقات کی, ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے وزیر اعلیٰ کو صوبے میں احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ وزیر اعلیٰ محمود خان سے ثانیہ نشتر کی ملاقات میں صوبے کے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے احساس پروگرام کے تحت قائم لنگرخانوں اور دیگر پروگرام کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں احساس پروگرام تحت امداد کی تقسیم کے لئے نیا سروے کروانے پر اتفاق کیا۔ وزیر اعلیٰ محمود خان نے کہا کہ نئے سروے کے ذریعے شمالی اور جنوبی وزیرستان کے زیادہ سے زیادہ آبادی کو پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔

بعدازاں وزیر اعلی اور معاون خصوصی نے پشاور میں قائم سیلانی لنگر خانے کا بھی افتتاح کیا اور احساس پروگرام پیمینٹ کیمپ سائٹ کا بھی دورہ کیا۔ اس موقع پر محمود خان کا کہنا تھا کہ صوبے میں اس وقت گیارہ لنگر خانے قائم ہیں، ان لنگر خانوں میں مستحق لوگوں کو مفت خوراک فراہم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صوبے میں مزید لنگر خانے بھی قائم کئے جائیں گے۔

وزیر اعلیٰ کا کہناتھا کہ لنگر خانوں اور احساس پروگرام کے کو کامیاب بنانے میں ثانیہ نشتر کا کردار قابل تعریف ہے، غریب طبقوں کے لئے پروگرام شروع کرنے پر وزیر اعظم اور سیلانی ٹرسٹ کا مشکور ہوں۔ ثانیہ نشتر نے کہا کہ احساس کیش پروگرام پر عملدرآمد کے سلسلے میں خیبر پختونخوا حکومت کا تعاون مثالی ریا ہے، احساس پروگرام کے حوالے سے صوبائی حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے۔ انہوں نے مزید کہاکہ عنقریب احساس نشونما پروگرام کا بھی آغاز کیا جارہا ہے۔

یادر ہے کہ جنوبی اور شمالی وزیرستان میں خصوصی طور پر دہشت گردوں کےخلاف فوجی کاروائیوں اور امن عامہ نہ ہونے کی وجہ سے 2010 کا سروے نہیں کیا گیا تھا۔ اس لئے شمالی اور جنوبی وزیرستان کی زیادہ تر غریب اور نادار لوگ احساس پروگرام سے استفادہ حاصل کرنے سے محروم رہے ہیں۔