ضم اضلاع : مقامی روایات کے مطابق پولیسنگ

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی نے کہا ہے کہ ضم شدہ اضلاع میں مقامی رسم و رواج اور روایات کے عین مطابق عوام کے دل جیت کر بہترین موثر پولیسنگ کو فروغ دیا جارہا ہے اور کہا کہ لیویز اور خاصہ دار خیبر پختونخوا پولیس میں باقاعدہ ضم ہو چکے ہیں اور اُن کو پولیس افسروںو جوانوں کو حاصل تمام مراعات اور سہولیات مہیا کی گئی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے انسٹیٹیوٹ آف پیس اینڈ کنفلکٹ سٹڈیز یونیورسٹی آف پشاور کے زیر اہتمام منعقدہ آن لائن سمینار سے اپنے لیکچر کے دوران کیا، سمینار کا موضوع ضم شدہ اضلاع میں پولیسنگ کے عنوان سے تھا جو اپنی نوعیت کا پہلا آن لائن سمینار تھا جس میں آئی جی پی نے یونیورسٹی آف پشاور کے مختلف ڈیپارمنٹس جن میں پولیٹیکل سائنس، بین الاقوامی تعلقات عامہ، جرنلزم، تاریخ اور پیس اینڈ کنفلکٹ وغیرہ شامل تھے، کے سینکڑوں طلبہ طالبات کو ضم شدہ اضلاع میں اب تک کامیابی سے اُٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں تفصیلی آن لائن لیکچر دیا۔

آئی جی پی نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع میں اچھی پولیسنگ کا عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے جس کی بدولت قبائلی اضلاع میں پچھلے 5 ماہ کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں 50 فیصد، اغوائ برائے تاون کے واقعات میں 100 فیصد، بھتہ خوری کے واقعات میں 75 فیصد، ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں 80 فیصد اور دہشت گردوں کی مالی معاونت میں 75 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

آئی جی پی کا مزید کہنا تھا کہ پولیس کی بہترین حکمت عملی کی بدولت رواں سال میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملوں میں بالترتیب 70 اور 50 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

آئی جی پی کا لیکچر میں مزید کہنا تھا کہ ضم شدہ اضلاع میں تھانوں،پولیس پوسٹوں اور پولیس لائنز کیلئے مختص 7377.25 ملین روپے میں سے اب تک اراضی کی فروخت کیلئے 450 ملین جاری کئے جا چکے ہیں جس سے 28 تھانوں، 54 پولیس پوسٹوں اور سی ٹی ڈی اور سپیشل برانچ کیلئے 413ک ینال اراضی کے حصو ل کا عمل تیزی سے جاری ہے جبکہ پولیس یونیفارم، سکیورٹی اور مواصلات کے آلات اور گاڑیوں کی فروخت کیلئے مختص 1.608 بلین روپے کا عمل موجودہ مالی سال (2019ـ2020) کے دوران مکمل کر لیا جائے گا۔