صوبائی بجٹ : ضم اضلاع سے سو ارب روپے وعدہ ہی رہا

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

خیبر پختونخوا حکومت نے مالی 21-2020 کیلئے 923 ارب روپے کا متوازن اور ٹیکس فری بجٹ پیش کردیا۔

نئے مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا تھا کہ بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے 318ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، تعلیم کیلئے 18ارب ، صحت کیلئے 13 ارب رکھے گئے ہیں جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہیں کیا گیا۔

وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس لگایا نہ پہلے سے نافذ ٹیکسوں میں اضافہ کیا گیا ہے، مشکل ترین وقت میں بھی ترقیاتی بجٹ میں کوئی کٹوتی نہیں کی گئی، صوبے کے ہر خاندان کو صحت کارڈ پہنچائیں گے، بجٹ کیلئے ٹیکسوں کی مد میں وفاق سے 713 ارب روپے ملنے کا امکان ہے جبکہ 49 ارب روپے صوبہ اپنے محصولات سے پورا کرے گا، قبائلی اضلاع کیلئے 161 ارب روپے وفاق سے ملیں گے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے ترقیاتی کاموں کے لئے 317 ارب 85 کروڑ روپے کی تجویز پیش کی ہے، بجٹ میں کل 2467 ترقیاتی منصوبے رکھے گئے ہیں، 451 نئے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کابینہ نے دی ہے جبکہ باقی تمام جاری منصوبوں پر فنڈز خرچ کئے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ بندوبستی اضلاع کے ترقیاتی بجٹ کا حجم 221 ارب 92 کروڑ، قبائلی اضلاع کے لئے 95 ارب روپے مختص کر دیئے گئے ہیں، ابتدائی و ثانوی تعلیم کےلئے ترقیاتی بجٹ کی مد میں 18 ارب رکھے گئے ہیں جس پر محکمہ تعلیم میں 26 ہزار سکولوں کی بہتری کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے.

آئندہ سال صوبے میں 21 ہزار اساتذہ بھرتی کئے جائیں گے، سکولوں کی نگرانی کیلئے انڈی پنڈنٹ مانٹیرنگ یونٹ کو ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی میں تبدیل کیا گیا ہے جبکہ تعلیمی اداروں کی نگرانی کیلئے 3 ہزار سکول قائدین بھرتی کئے جائیں گے اور صوبے میں 300 نئے سکول تعمیر جبکہ 534 سکولوں کو اپ گریڈ کیا جائے گا

صوبائی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی تعمیر کیلئے 4 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، یونیورسٹیوں کے وسائل پورے کرنے کیلئے ایک ارب روپے مختص کردیئے گئے ہیں، سڑکوں کی بحالی کیلئے 5.7 ارب روپے رکھے جائیں گے، بندوبستی اضلاع کےلئے 73 ارب اور قبائلی اضلاع کےلئے 12 ارب روپے کی غیرملکی امداد شامل ہے.

ترقیاتی فنڈز میں ملٹی سیکٹر ڈیویلپمنٹ کے لئے 21 ارب، روڈ سیکٹر کیلئے 26 ارب اور ٹرانسپورٹ کیلئے 11 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، صوبے میں زراعت کے لئے 10 ارب، توانائی 8 ارب اور اعلی تعلیم کے لئے 6 ارب روپے رکھے گئے ہیں، مقامی حکومتوں کے لئے بجٹ میں 44 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، خیبر پختونخوا کے مالی سال 21-2020 کے بجٹ کا تخمینہ 923ارب روپے ہے ،ترقیاتی پروگرام میں 83 بلین روپے قبائلی اضلاع کیلئے رکھے گئے ہیں۔