وبائی صورتحال میں ڈاکٹر جیتندر سنگھ پشاوریوں کے لئے مسیحا

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

کورونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنے لپیٹ میں لے لیا ہے جسکی وجہ سے زیادہ تر کاروبار ماند پڑ گئے ہیں اور عام دیہاڑی والے مزدور کام نہ ہونے کی وجہ سے انتہائی مشکلات سے دوچار ہو گئے ہیں۔ ان مشکل حالات میں اگر سب کو اپنی بقا کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے تو کچھ ایسے خدا ترس لوگ اب بھی موجود ہیں جو کہ مذہب اور فرقوں کو بالائے طاق رکھ کر ضرورت مندوں کی مدد کے لئے میدان میں سرگرم ہیں اس فہرست میں پشاور سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر جیتندر سنگھ کا نام بھی شامل ہے جو کہ ایک سکھ ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ پشاور میں سکھ کمیونٹی کے رہنما اور سوشل ورکر ہے۔ وہ اپنے گھر میں راشن کے پیکٹس بنا کر پشاور کے مختلف علاقوں میں ضرورت مندوں کو پہنچاتا ہے۔ جیتندر سنگھ کا کہنا ہے کہ ہم گھر میں پیکٹس بنا کر ضرورت مندوں کو پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ راشن میں بند ہونے والا سارا سامان پہلے بازار سے گھر لاتے ہیں اور ہم سب گھر والے اکٹھے بیٹھ کر ضرورت کے مطابق پیک کرکے کاٹن میں بند کرتے ہیں۔ سنگھ نے مزید کہا کہ سامان کی خریداری، پیکنگ اور تقسیم تک تمام مراحل میں کورونا وائرس سے بچنے کے لئے تمام تر احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جاتا ہے تاکہ ہم خود متاثر نہ ہو ں اور اپنا کام جاری رکھ سکیں۔

پاکستان میں کورونا وائرس کی وجہ سے متاثر ہونے والے افراد کے لئے حکومت پاکستان نے احساس پروگرام کے نام سے ایک سکیم شروع کیا ہے جسمیں تمام مستحقین کو تین مہینوں کے لئے بارہ ہزار روپے دئے جا رہے ہے۔ حکومتی ڈیٹا کے مطابق احساس پروگرام میں تقریبا 18 ملین مستحقین کو بارہ ہزار روپے امداد کے طور پر دئیے جائیں گے۔

جیتندر سنگھ نے راشن کی تقسیم کار کے حوالے سے بتایا کہ فیسبک یا واٹس اپ کے زریعے مجھ سے لوگ رابطہ کر لیتے ہیں کہ ہمارا تعلق غریب خاندان سے ھے اور ہمیں راشن کی ضرورت ھے میں آگے اپنے واٹس ایپ اور فیس بک پر اپنےکولیگزسے رابطہ کرتا ہوں تاکہ ان کی جانچ پڑتال ہو سکیں اور اسکو راشن بروقت پہنچایا جا سکے۔

کروناوائرس کی وبا کے دوران اب تک ڈاکٹر سنگھ نے 100 سے زائد مستحق خاندانوں کی مدد کر چکے ہیں۔ اس کارخیر میں اگرچہ مخیر حضرات ان کا ساتھ دے رہے ہیں، لیکن ڈاکٹر سنگھ کہتے ہیں کہ فنڈز مہیا کرنے والوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے کام کے ساتھ ساتھ مختلف مخیر حضرات سے رابطے بھی کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ مالی امداد کریں تاکہ ہم اپنا کام جاری رکھ سکیں۔

پاکستان میں کورونا وائرس بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور ابھی تک پورے ملک میں ایک لاکھ چیاسٹھ ہزار سے زیادہ لوگ متاثر ہو چکے ہیں۔ کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے حکومت نے لاک ڈاون کیا ہوا ہے جسکی وجہ ملکی معشیت بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور لوگوں کے کاروبار بھی انتہائی مشکلات سے دوچار ہیں۔ لوگوں کی بڑھتے مشکلات کے بارے میں سنگھ نے کہا کہ جو لوگ پہلے آسانی سے فنڈز دے دیتے تھے اب جب ہم انہیں کال یا رابطہ کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہماری اپنی ضروریات پورے نہیں ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی مشکلات کے حوالے سے بتایا کہ ہمارے اپنے اردگرد جو لوگ ہیں ہم اس کی مدد کر رہے ہیں جن میں ہمارے پاس مسیحی برادری ھے سکھ کمیونٹی ھے ہندو کمیونٹی ھے اور مسلم کمیونٹی کے کافی زیادہ لوگ ہیں۔ سنگھ نے مزید کہا کہ ہمیں ان کی مدد کرنے میں تھوڑی مشکلات پیش آرہی ہیں کیوں کہ ہم یہ سب کچھ اپنی مدد آپ کے تحت کر رہے ہیں۔

اگر ایک طرف کورونا وائرس کی وجہ سے لوگوں کی مالی حالت خراب ہوتی جا رہی ہے تو دوسری جانب دن بدن اشیاء خردونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جیتیندر سنگھ نے مہنگائی اور مالی مشکلات کے حوالے سے بتایاکہ آج کل فنڈز کی فراہمی نہ ہونےکے ساتھ ساتھ ضروری اشیا کی قمیتوں میں ہوشربا اضافہ بھی مستحق افراد کی مدد کرنے میں رکاوٹ بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو سو کی چیز دو سو چالیس کی ہو گئی ھے اور جو راشن پیک ہم تین ہزار کا بناتے تھے اب وہ چار پانچ ہزار تک چلا گیا ھے۔

ان مشکلات کے باوجود ڈاکٹر جتندر سنگھ کے حوصلے بلند ہیں اور وہ اپنے کار خیر کو جاری رکھنے کا ارداہ پکا رکھے ہوئے ہے، سنگھ نے کہا خدمت کا اپنا ایک جزبہ ہے مجھ میں اور اسکی اصل وجہ یہ ہے کہ میں کافی لوگوں کے ساتھ رہا ہوں تو ان بڑوں سے یہی سیکھا ہے کہ خدمت کرنے سے دل خوش ہوتا ہے دلی سکون ملتا ہے اور ہمارا مذہب بھی دوسروں کی خدمت کرنے کا درس دیتا ہے۔

حکومت نے لاک ڈاون میں نرمی تو کر لی ہے مگر غریب طبقے کے مشکلات کم نہیں ہوئے اور دوسری جانب کورونا وائرس سے لوگ بہت زیادہ متاثر ہو رہے ہیں ایسے میں ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے تمام تفرقات سے بالاتر ہو کر انسانیت کو ترجیح دی ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسانیت کا کوئی مذہب نہیں۔